لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 8 اور 9 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمشن کو حلقہ بندیوں کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایات کر دیں۔
لاہور: (دنیا نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو عدالت کے روبرو تحریک انصاف سمیت دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمشن کے پاس ہے لیکن پنجاب حکومت من پسند علاقوں میں امیدواروں کے لیے حلقہ بندیاں کروا کر دھاندلی کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ امیدواروں کے پاس حلقہ بندیوں کیخلاف اپیلیں کرنے کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہے کیونکہ لوکل گورنمنٹ کے سیکشن 10 اے کے تحت جب الیکشن کمشن شیڈول جاری کر دے تو امیدوار حلقہ بندیوں کو کہیں بھی چیلنج نہیں کر سکتے۔ درخواست گزار نے حلقہ بندیوں سے متعلق سیکشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ حلقہ بندیوں کا اختیار پنجاب حکومت کے پاس ہے۔ قانون کے تحت پنجاب حکومت الیکشن کمشن کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد پنجاب میں حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیدیا جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 8 اور 9 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمشن کو حلقہ بندیوں کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایات کر دیں اور یہ بھی فیصلہ میں حکم جاری کیا کہ بلدیاتی انتحابات کے انعقاد میں تاخیر نہ کی جائے۔