عالمی برادری کو پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرنا چاہیے، چینی وزارت خارجہ

Last Updated On 23 January,2020 10:19 pm

بیجنگ: (دنیا نیوز) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردوں کو فنڈنگ روکنے سے متعلق واضح اقدامات کیے ہیں۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے تعمیری مدد فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پر امریکی نائب وزیر خارجہ کا بیان، چینی سفارتخانے کی شدید مذمت

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے بیان پر چینی سفارتخانے نے درعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک اور پاک چین تعلقات میں امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے منفی پراپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ امریکی اقدامات عالمی معیشت کے لیے نہیں، اپنے مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں پابندی کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا ہے۔ امریکا حقائق سے آنکھیں چرا کر سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ چین پاکستانی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں 32 منصوبے قبل ازوقت مکمل ہوئے۔ ان منصوبوں سے 75 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔

چینی ترجمان نے کہا کہ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام نے دینا ہے نہ کہ امریکا نے۔ امریکا خود ساز قرضہ جات کی کہانی میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا حساب کتاب کمزور اور ارادے برے ہیں۔ چین نے کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے جبری طور پر مجبور نہیں کیا۔ چین پاکستان سے بھی غیر معقول مطالبات نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر بھارت سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی درخواست کا جواب دے، چین

اس سے قبل چین نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی درخواست کا جواب دے۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں چین کی جائزہ اجلاس میں شمولیت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی امن واستحکام کے لئے ہے۔ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل جائزہ میں بھرپور انداز سے شامل ہوئے ہیں۔

گینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ خطے کے معاملات پر بھارت چین کے واضح موقف سے بخوبی واقف ہے، سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے بھی کھل کر تنازعہ جموں و کشمیر پر خدشات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ روس بھی سلامتی کونسل کے اہم رکن کے طور پر مسئلہ جموں وکشمیر پر کھل کر بولا، بھارت کو توجہ کے ساتھ سلامتی کونسل رکن ممالک کی درخواست کا جواب دینا چاہیے۔

ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ علاقائی امن و استحاکم کے لئے مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے، سلامتی کونسل کے ازسر نو جائزے سے کشیدگی میں کمی، مسئلہ کے حل پر پیشرفت ممکن ہے۔

گینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت حل چاہتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ارکان مقبوضہ وادی کی صورتحال پر تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت سے رابطے میں ہیں ، علاقائی امن کے لئے مثبت کردار جاری ہے۔ تنازعہ جموں و کشمیر پر چین کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں۔ بھارت اس سارے معاملے کاکوئی اور مطلب لے تو الگ بات ہے۔