مکئی کے طبی فوائد

Last Updated On 06 August,2019 10:51 am

لاہور: (محمد شاہد) مکئی نشاستہ دار سبزی اور اناج ہے۔ صدیوں سے اسے دنیا بھر میں کھایا جا رہا ہے۔ یہ ریشے، حیاتین اور معدنیات کا بھرپور ذریعہ ہے۔

مکئی کی جائے پیدائش میکسیکو اور عمر 9000 برس ہے۔ مقامی امریکی اسے اگاتے تھے اور یہ خوراک کا بنیادی ذریعہ تھی۔ عام طور پر مکئی زرد رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہ سفید، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں بھی پائی جاتی ہے۔

اسے مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے اور مختلف طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے جانوروں کی خوراک بھی بنایا جاتا ہے۔ دورِ جدید میں اس سے ایندھن بھی تیار کیا جاتا ہے۔

دراصل مکئی کی کل امریکی پیداوار کا 40 فیصد ایندھن بنانے کے کام آتا ہے، جبکہ دنیا میں مجموعی طور پر 60 سے 70 فیصد مکئی جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔

غذائیت سے بھرپور مکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ میٹھی زرد مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6 گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔

مکئی میں شامل نشاستہ خون میں شکر کی مقدار بڑھاتا ہے تاہم اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ آپ کتنی مکئی کھاتے ہیں۔ اس کے غذائی اجزا کے پیشِ نظر زیادہ تر لوگ اس کے دانوں کو پورا یا پاپ کارن کی شکل میں کھاتے ہیں۔ یہ گلوٹن کے بغیر قدرتی غذا ہے۔ وہ افراد جن کا جسم گلوٹن قبول نہیں کرتا، وہ اسے کھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب پراسسڈ مکئی جو تیل یا سیرپ کی شکل میں ہوتی ہے، کم غذائیت رکھتی ہے۔ ریشہ اور نباتاتی مرکبات مکئی میں اینٹی آکسیڈنٹ اور نباتاتی مرکبات ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

مکئی میں لوٹین اور زیاکسن تھین زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کیروٹینائیڈز ہیں جو آنکھ کے عدسے کے دھندلے پن (cataracts) اور عمر کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری کو روکتے ہیں۔

دراصل ہماری آنکھ کا وہ حصہ جو پٹھوں پر مشتمل ہے، اس میں ان اجزا کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ 365 بالغوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد کیروٹینائیڈز، لوٹین اور زیاکسن تھین کی زیادہ مقدار کھاتے ہیں، ان میں عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا امکان تھوڑا کھانے والوں کی نسبت 43 فیصد کم ہوتا ہے۔

آنتوں اور انہضام کے مسائل مکئی میں پایا جانے والا ریشہ آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ریشے سے بہت سے امراض کا امکان کم ہو جاتا ہے جن میں دل کی بیماریاں اور چند اقسام کے سرطان شامل ہیں۔

مطلوبہ مقدار میں ریشہ نظام انہضام کی صحت کے لیے مفید ہے اور گَٹ کی حفاظت کرتا ہے۔ مکئی نظام انہضام کے متعدد مسائل سے بچا سکتی ہے جن میں ’’ڈائیورٹیکولر‘‘ کا مرض شامل ہے جس کی اہم خصوصیت ہاضمے کے راستے میں سوزش کا ہونا ہے۔

بالغ مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ ہفتے میں دو بار پاپ کارن کھانے والوں میں اس بیماری کا خطرہ قابلِ ذکر حد تک کم ہو جاتا ہے۔

چند تحقیقات کے مطابق مکئی اور پاپ کارن کھانے سے گَٹ کی صحت بہتر ہوتی ہے تاہم اس سلسلے میں مزیدتحقیق کی ضرورت ہے۔ خون میں شکر اور وزن مکئی میں نشاستے کی زیادہ مقدار کے سبب خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے، اس لیے آبادی کے ایک حصے کے لیے اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔

ذیابیطس میں مبتلا افراد کو نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال کم کرنا چاہیے جس میں مکئی بھی شامل ہے۔ وہ افراد جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں، انہیں نشاستہ دار غذائیں کم کھانی چاہئیں۔

جینیاتی تبدیلی مکئی کی فصلوں کو جینیاتی تبدیلیوں کی مدد سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں وغیرہ کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہوتا ہے۔

مکئی کی بہت سی اقسام کو جینیاتی تبدیلی کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جینیاتی تبدیلیوں سے حاصل شدہ مکئی کے مضر اثرات بھی ہیں۔

دوسری جانب ایسی تحقیقات بھی موجود ہیں جو اس کی نفی کرتی ہے۔ ان کے مطابق جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اور غیر تبدیل شدہ مکئی کے فوائد ایک جیسے ہیں۔ اس سلسلے میں وسیع اور گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔