خلاصہ
- لاہور:(دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دور حکومت کے ساڑھے تین سال کے دوران مہنگائی میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا، دودھ، چینی، آٹا، تیل اور مختلف دالوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جہاں حکومت کو ایک طرف کورونا کا سامنا کرنا پڑا وہیں عالمی منڈی میں اجناس اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تقریباً ساڑھے تین سال دور حکومت میں روز مرہ استعمال کی اشیا خورونوش کی قیمتیں اتنی بڑھیں کہ عوام چلا اٹھے۔
موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو چینی کی فی کلو قیمت جو 56 روپے تھی بڑھ کر 95 روپے کلو ہوگئی، آٹا جو 41 روپے کلو تھا بڑھ کر 80 روپے کلو میں فروخت ہونے لگا، خوردنی تیل جو 190 روپے لیٹر میں فروخت ہورہا تھا 480 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔
گھی کی قیمت 180 روپے کلو سے بڑھ کر اس وقت 450 روپے کلو ہوچکی ہے، دودھ 100 روپے لیٹر سے بڑھ کر 150 روپے لیٹر میں فروخت ہورہا ہے، چینے کی دال 120 روپے کلو سے بڑھ کر 180 روپے، دال ماش 150 روپے سے بڑھ کر 280 روپے کلو اور بیسن کی قیمت 135 روپے سے بڑھ 195 روپے کلو ہوچکی ہے۔
ماہرین کے مطابق روپے کی گرتی قدر کے باعث آئندہ آنے والے دنوں میں اشیاء خورونوش سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔