نگران حکومت سرمایہ کاروں کو راس نہ آئی، سٹاک مارکیٹ میں 18 دنوں میں کھربوں ڈوب گئے

Published On 31 August,2023 08:00 pm

لاہور (دنیا انویسٹی گیشن سیل) سال 2023 ماہ اگست میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کو مجموعی طور پر5 کھرب 15 ارب 88 کروڑ 37 لاکھ 65 ہزار 244 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ ماہ اگست میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کا کل حجم 72 کھرب 31 ارب 76 کروڑ 42 لاکھ 55 ہزار 217 روپے سے کم ہو کر 67 کھرب 15 ارب 88 کروڑ 4 لاکھ 89 ہزار 973 روپے پر پہنچ گیا ہے۔

نگران حکومت کے ابتدائی 18 دنوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کے کل حجم میں 5 کھرب 15 ارب 87 کروڑ 6 لاکھ 92 ہزار 580 روپے کی کمی ہوئی ہے، نگران حکومت کے آنے سے قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس 48 ہزار 424 پوائنٹس پر تھا، جو گزشتہ 13 کاروباری دنوں کے دوران 3 ہزار 422 پوائنٹس کمی کے ساتھ 42 ہزار 2 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان مہنگائی سے متاثرہ ممالک میں 18 ویں نمبر پر آگیا

اسی طرح 14 اگست 2023 سے اب تک روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، 14 اگست 2023 کے آغاز میں فی ڈالر قیمت 288 روپے تھی جو 17 روپے اضافے کے ساتھ 305روپے تک پہنچ گئی، ڈالر کی قدر میں اضافہ کا اثرپاکستان سٹاک ایکسچینج پر پڑا جس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کل حجم 25 ارب 6 کروڑ 73 لاکھ 28 ہزار 66 ڈالر سے کم ہو کر 21 ارب 98 کروڑ 5 لاکھ 926 ڈالر پر پہنچ چکا ہے، یوں، نگراں حکومت کے دور میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کےحجم میں 3 ارب 8 کروڑ 68 لاکھ 27 ہزار 140 ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

گزشتہ ماہ کی بات کی جائے تو اگست 2023 میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اگست کے آغاز میں فی ڈالر قیمت 286 روپے تھی جو 19 روپے اضافے کے ساتھ 305روپے تک پہنچ گئی، ڈالر کی قدر میں اضافہ کا اثرپاکستان سٹاک ایکسچینج پر پڑا جس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کل حجم 25 ارب 22 کروڑ 92 لاکھ 90 ہزار 707 ڈالر سے کم ہو کر 21 ارب 98 کروڑ 5 لاکھ 926 ڈالر پر پہنچ چکا ہے۔

روپے کی گرتی قدر سے اگست کے مہینے میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے حجم میں 3 ارب 24 کروڑ 87 لاکھ 89 ہزار 781 ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، اسی طرح 4 اگست 2023 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں میں سے ایک کمپنی کو خارج کر دیا گیا تھا، جس سے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اندراج کمپنیوں کی تعداد 523 سے کم ہو کر 522 ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اشیائے ضروریہ پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم یقینی بنایا جائے: نگران وزیر داخلہ

اگست کے مہینے میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ایس ای 100 انڈیکس 3 ہزار 32 پوائنٹس کمی کے ساتھ 48 ہزار 34 سے کم ہو کر 45 ہزار 2 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 1 ہزار 227 پوائنٹس کمی کے ساتھ 17 ہزار 197 پوائنٹس سے کم ہو کر 15 ہزار 970 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے، اگست کے مہینے میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبارمیں شدید مندی گزشتہ روز دیکھنے کو ملی جب کے ایس ای 100 انڈیکس میں ریکارڈ 1 ہزار 242 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ،جس سے سرمایہ کاروں کو 1 کھرب 79 ارب 82 کروڑ 65 لاکھ 53 ہزار 917 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اسی طرح گزشتہ ماہ میں 9 اگست کا دن پاکستان سٹاک ایکسچینج کے لیے مثبت رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 798پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کو 90 ارب 23 کروڑ 48 لاکھ 78 ہزار 787 روپے کا فائدہ ہوا، یاد رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ایس ای 100 انڈیکس میں گزشتہ روز ہونے والے 1 ہزار 242 پوائنٹس کی کمی سال 2023 کی دوسری سب سے بڑی کمی ہے۔

اس سے قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج کے کاروبارمیں شدید مندی کی وجہ سے 17 جنوری 2023 کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں ریکارڈ 1 ہزار 378 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ،جس سے سرمایہ کاروں کو 1 کھرب 99 ارب 30 کروڑ 72 لاکھ 32 ہزار 503 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ 

Advertisement