تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 64 ہزار 384 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 26 ہزار 237 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1440 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 9 ہزار 878 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑایک لاکھ 96 ہزار 19 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1958 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 37 ہزار 793،سندھ میں 4 لاکھ 65 ہزار 486 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 76 ہزار 774،بلوچستان میں 33 ہزار 120 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 6 ہزار 445،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 369 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 397 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

پہلے چالان میں ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

Published On 11 September,2021 12:04 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نور مقدم قتل کیس کے عدالت میں جمع چالان کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ ڈی این اے رپورٹ سے جنسی زیادتی بھی ثابت ہوگئی۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے نامکمل عبوری چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے متعلق رپورٹ آنے پر ضمنی چالان داخل ہوگا۔ ملزم ظاہر جعفر کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اعترافی بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا۔ پولیس کے عبوری چالان کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کر کے سر دھڑ سے الگ کرنے کا بیان دیا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ نور مقدم نے شادی سے انکار کیا تو اسے زبردستی کمرے میں بند کر دیا۔ پولیس کے عبوری چالان کے مطابق ملزم نے نور مقدم کو قتل کر کے اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیا اور اس کا موبائل دوسرے کمرے میں چھپا دیا۔ موبائل ملزم کی نشاندہی پر اسی کے گھر کی الماری سے برآمد کیا۔

ملزم کے مطابق اس نے والد کو قتل کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں، والد نے کہا ہمارے بندے آ رہے ہیں جو لاش ٹھکانے لگا کر اسے وہاں سے نکال لیں گے۔ عبوری چالان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر ملزم کا والد ذاکر جعفر بروقت پولیس کو اطلاع دیتا تو نور مقدم کا قتل بچ سکتا تھا۔ والد نے اس وقوعہ میں اپنے بیٹے کی مدد کی ہے۔

ملزم کے بیان کے مطابق تھراپی ورکس کے امجد محمود کے ساتھ غلط فہمی میں جھگڑا ہوا، تھراپی ورکس کے ملازمین نے ملزم کے اس فعل کو چھپانے اور شہادت ضائع کرنے کی کوشش کی، تھراپی ورک کے زخمی ملازم امجد نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کرایا اور میڈیکل سلپ میں روڈ ایکسیڈنٹ درج کرایا۔