تازہ ترین
  • بریکنگ :- اکاؤنٹس کی چھان بین کیلئےچاروں صوبوں،وفاق میں ایف آئی اے کی ٹیمیں تشکیل
  • بریکنگ :- چاروں صوبوں اوراسلام آبادکی رپورٹ مرکزی کمیٹی کوبھجوائی جائےگی
  • بریکنگ :- وفاقی ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹرآمنہ بیگ کوسونپ دی گئی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواکی 5 رکنی ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹرمحمدآفتاب کریں گے
  • بریکنگ :- سندھ زون ون کی 5 رکنی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹررابعہ قریشی کریں گی
  • بریکنگ :- پنجاب زون ون ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹرعامراقبال کریں گے
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس،تحقیقات کادائرہ کارچاروں صوبوں میں پھیلادیاگیا

جعلی معلومات سے نمٹنے کیلئے فیس بک نے سیاسی اشتہارات پر پابندی عائد کر دی

Published On 01 October,2020 05:04 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک نے غلط اطلاعات سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے ایسے سیاسی اشتہارات پر پابندی عائد کردی ہے جو امریکی انتخابات کو غلط بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات میں صرف ایک ماہ کا وقت بچا ہے فیس بک نے تمام پلیٹ فارمز پر ایسے تمام سیاسی اشتہارات کو شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں الیکشن کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاص طور پر پوسٹل ووٹنگ یعنی ڈاک کے ذریعے بیلٹ باکس پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

فیس بک نے اعلان کیا کہ انسٹاگرام سمیت اپنی تمام ویب سائٹوں پر ایسے اشتہارات پابندی عائد کر رہی جس میں انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی ہونے کا ہوّا کھڑا کیا جا رہا ہے۔ادارے نے پوسٹ میں لکھا کہ ہم نے رواں برس ہونے والے انتخابات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کے طور یہ فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک جعلی ویڈیوز پھیلانے والوں کا سب سے بڑا پلیٹ فارم

کمپنی میں پروڈکٹ مینجمنٹ کے ڈائریکٹر راب لیتھرین نے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں کمپنی اپنی ان پالیسیوں کو واضح کرتی جاری ہے جن کا پہلے ہی ذکر کیا گیا تھا۔ فیس بک ان تمام اشتہارات پر پابندی عائدکرے گا، جن میں انتخابی نتائج کو ناجائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ ضابطے فیس بک کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام پر بھی عائد ہونگی اور انہیں فی الفور نافذ کیا جا رہا ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق فیس بک نے فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے ایک روز بعد کیا ہے جس میں انہوں نے پوسٹل ووٹنگ پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

صدارتی انتخاب میں اپنے حریف جو بائیڈن کے ساتھ بحث کے دوران ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوی کیا تھا کہ میل کے ذریعے ووٹنگ سے بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوگی۔اس موقع پر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا کہ کیا انتخابات میں ناکامی پر وہ اقتدار آسانی سے منتقل کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’غلط معلومات‘ کا الزام، فیس بک و انسٹاگرام کے بائیکاٹ کی مہم شروع

فیس بک پر اس بات کے لیے پہلے بھی شدید نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ سیاسی نوعیت کے اشتہارات میں وہ حقائق کو چیک کرنے اور ان پر نظر رکھنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے انتخابات اور دیگر سیاسی موضوعات سے متعلق عوام تک غلط معلومات پہنچتی رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے ہی کمپنی نے ایسے تمام اشتہارات روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں ووٹنگ اور انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی جیت کا دعوی کیا جا رہا ہے۔

فیس بک نے ان تشویشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا کہ کہیں صدر ٹرمپ ووٹوں کی مکمل گنتی سے پہلے ہی عوام کو یہ قائل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال نہ کرلیں کہ وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔ فیس بک نے انتخابات کے لیے ووٹنگ سے ایک ہفتے قبل ہی نئے سیاسی اشتہارات پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبروں کیخلاف ایکشن: فیس بک نے لاکھوں پوسٹیں ڈیلیٹ کر دیں

کمپنی نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا کہ اشتہار دینے والے 27 اکتوبر 2020 کو رات کے بارہ بجے کے بعد سے تین نومبر کی درمیانی شب تک امریکا میں سماجی مسائل، انتخابات یا پھر سیاسی نوعیت کے اشتہارات نشر نہیں کر سکیں گے۔