تازہ ترین
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نے 150 ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کردی
  • بریکنگ :- اسلام آباد: رکنیت گوشوارے جمع نہ کرانے پر معطل کی گئی
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی 36،سینیٹ 3،پنجاب اسمبلی کے 69 ارکان کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- سندھ اسمبلی 14،خیبرپختونخوا اسمبلی کے 21 ارکان کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- بلوچستان اسمبلی کے 7 ارکان کی رکنیت بھی معطل کردی گئی
  • بریکنگ :- نورالحق قادری،فرخ حبیب،حماداظہر،شفقت محمودکی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- فہمیدہ مرزا،عامرلیاقت،راجہ ریاض،صداقت عباسی،خالدمقبول صدیقی شامل
  • بریکنگ :- رکن پنجاب اسمبلی اویس لغاری کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےیارمحمدرندکی رکنیت معطل کردی
  • بریکنگ :- معطل ارکان اسمبلی وسینیٹ اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- معطل ارکان کسی بھی قانون سازی میں شریک نہیں ہوں گے،الیکشن کمیشن

بچی کا دل سینے سے باہر نکال کردوبارہ اپنی جگہ رکھنے کی کامیاب سرجری

Published On 27 October,2020 06:14 pm

ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایسی پیچیدہ اور مشکل سرجری کا عمل کامیابی سے انجام دیا ہے جس نے سعودی ماہرین طب کی مہارت اور ان کی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض میں مسلح افواج کے زیر انتظام شہزادہ سلطان میڈیکل سینٹر اور ہسپتال برائے امراض قلب کے ڈاکٹروں‌ نے 10 ماہ کی بچی کا سینہ چاک کیا اور اس کا دل سینے سے باہر نکال کر دوبارہ اسے اپنی جگہ پر کامیابی کے ساتھ جوڑ دیا۔

خیال رہے کہ بچی پیدائشی طور پر پسلی کے پنجرے، پیٹ کی دیوار، دل اور ڈایافرام کی پیچیدہ اور انتہائی نادر نوعیت کے عوارض کا شکار تھی۔

اس تناظر میں بچی کے والد ہائل الملہم نے بتایا کہ بچی ماں کے پیٹے میں ساتویں مہینے میں تھی جب ایک نجی ہسپتال میں ماں کا معائنہ کرایا گیا تو پتا چلا کہ بچی کے دل کا رخ دائیں طرف جھکا ہوا ہے۔ اس کے بعد خاتون کو میری سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچی کا دل پسلی کے پنجرے سے باہر ہے اور یہ کہ دل میں بہت بڑا سوراخ ہے جس کی وجہ سے ماں کے رحم کے اندر ہی سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے میں نے حمل کے دوران آپریشن کرانے سے انکار کردیا اور پیدائش کے بعد ہی اس آپریشن کو ترجیح دی۔

الملھم نے مزید کہا کہ جب پتہ چلا کہ دل پسلی کے پنجرے سے باہر ہے تو میں نے سعودی عرب کے اندر اور باہر بہت سے ہسپتالوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں دشواری کی وجہ سے مجھے ہر طرف سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے مختلف ہسپتالوں کو بچی کی میڈیکل رپورٹس بھجوائیں اور امریکا اور یورپ میں علاج کی تلاش میں مملکت کے باہر سفر کیا لیکن کہیں بھی مجھے کامیابی نہ ملی۔

انہوں نے کہا کہ جب میرے سامنے تمام در بند ہوگئے تو مجھے میری اہلیہ کے ذریعے پتا چلا کہ شہزادہ سلطان میڈیکل سٹی میں ڈاکٹر عبدالعزیز الخالدی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اس نوعیت کے کیسز کو دیکھتےہیں۔ میں ان کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے اس پیچیدہ آپریشن پرآمادگی ظاہر کر دی۔

الملھم کا کہنا تھا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے میری بیٹی کی سرجری کا عمل ملتوی کردیا گیا اور 10 ماہ بعد میں دوبارہ ہسپتال سے رجوع کیا تو ڈاکٹروں نے بچی کو سرجری کے لیے داخل کرلیا۔ بچی کے دل کا آپریشن کا مرحلہ 8 گھنٹے پرمحیط تھا جو انتہائی تکلیف دہ تھا جس میں ہم دکھ، امید اور صدمے کی ملی جلی کیفیات سے دوچار تھے۔ آخر کار ڈاکٹروں نے ہمیں بچی کے کامیاب آپریشن اور اس کی زندگی بچ جانے کی خوش خبری سنائی۔

سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد سرجری کیس تھا اور اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔