تازہ ترین
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 37 ہزار 793،سندھ میں 4 لاکھ 65 ہزار 486 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 76 ہزار 774،بلوچستان میں 33 ہزار 120 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 6 ہزار 445،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 369 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 397 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 64 ہزار 384 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 26 ہزار 237 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1440 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 9 ہزار 878 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑایک لاکھ 96 ہزار 19 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1958 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی

ملتان: نشتر ہسپتال میں مریضوں کو مفت انسولین کی فراہمی بند، نوٹس لینے کا مطالبہ

Published On 05 November,2020 12:31 pm

ملتان: (دنیا نیوز) ملتان کے نشتر ہسپتال میں مریضوں کو مفت انسولین کی فراہمی کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے اور باقی ادویات کی بھی یہی صورتحال ہے جس کا مریضوں کے لواحقین نے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نشتر ہسپتال ملتان میں گزشتہ کئی روز سے انسولین دستیاب نہیں جبکہ باقی ادویات کی بھی قلت ہے جس کی وجہ سے مفت ادویات نایاب ہونے پر مریضوں کے لواحقین کی اکثریت میڈیکل اسٹوروں پر خوار ہو رہی ہے، مہنگی ادویات کی خریداری میں مشکل پر لواحقین نے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا موقف ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے ادویات کی بروقت ڈیمانڈ نہیں بھیجی جا رہی جس کی وجہ سے کسی حد تک مسائل سامنے آرہے ہیں تاہم ادویات کی خریداری کے حوالے سے بتیس ارب روپے مختص کیے ہیں جس سے صورتحال کافی حدتک بہتر ہو چکی ہے۔

سرکاری ہسپتالوں کے ان ڈور اور آوٹ ڈور میں تا حال مفت ادویات دستیاب نہیں جبکہ ایمرجنسی وارڈز کو بھی صرف ڈنگ ٹپاو پالیسی کے تحت ہی چلایا جارہا ہے۔