تازہ ترین
  • بریکنگ :- چلغوزوں پر 45فیصدڈیوٹی ختم کی گئی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چلغوزےاب مہنگےنہیں ہوں گے،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- فائیوجی لائسنس سےمتعلق کمیٹی بنادی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حج اورعمرہ ریگولیشن ایکٹ کی منظوری دی گئی ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- بہت سےمقدمات پرپلی بارگین ہوسکےگی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- تیرچلےگا نہ تلواریہ بازومیرےآزمائےہوئےہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم کہہ رہےہیں زیرالتواکیسزنمٹائےجائیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- شہزاد اکبرنےبہت اچھاکام کیا،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- شہزاداکبرکی جگہ آنیوالےکوچیلنج کاسامناہوگا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری شجاعت ہمارےبزرگ ہیں ان کی باتوں کواہمیت دیتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- (ق)لیگ ہماری اتحادی ہےان کی رائےکااحترام کرتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پرکابینہ میں بحث ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ابھی پوری رپورٹ شائع نہیں کی گئی ،فواد چودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کامعیارمختلف ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں فنانشل کرپشن شامل نہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ مکمل آئےگی توجواب دیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کوئی شبہ نہیں رول آف لاپربہت کام کی ضرورت ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- پاکستان میں امیراورغریب کےلیےالگ الگ قانون ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کرمینل جسٹس ریفارمزسےکیسزنمٹانےمیں مددملے گی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- شہبازشریف اورزرداری کیسزکولائیودکھایا جائے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لوگوں کوپتاچلےچپڑاسیوں کےاکاؤنٹ میں پیسےکیسے آئے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں آئل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- مشینری کی35فیصدامپورٹ کامطلب ٹیکسٹائل انڈسٹری گروتھ کرےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اوورسیزپاکستانی ساڑھے3 ہزارارب روپےملک بھجواچکےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آئی ٹی ایکسپورٹ میں48 فیصداضافہ ہوا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- اسحاق ڈارکی طرح روپیہ مستحکم نہیں کررہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں20 فیصداضافہ ہوا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمباکوکاشت کرنیوالوں کےلیےبڑاریلیف ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمباکوکی قیمت 245روپے مقرر کی گئی ہے،فواد چودھری

اومی کرون کی علامات کیا ہیں؟

Published On 30 November,2021 06:48 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کا نئے ویرینٹ اومی کرون ہر طرف تیزی سے پھیل رہا ہے، جنوبی افریقا سے شروع ہونے والا یہ وائرس یورپ، برطانیہ، امریکا سمیت دیگر جگہوں پر پہنچ چکا ہے جبکہ پاکستان میں این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ اس وائرس کا پاکستان آنا ناگزیر ہے، آیئے ہم بتاتے ہیں کہ اس اومی کرون کی علامات کیا ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افریقا کی ایک ڈاکٹر جو کورونا کے نئے ویریئنٹ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ہیں، نے کہا ہے کہ او می کرون کی علامات بہت ہی معمولی ہیں۔

ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوٹزی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کلینک میں 7 ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں۔ جو چیز انہیں سرجری تک لے آئی وہ انتہائی تھکاوٹ تھی، مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

ڈاکٹر کوٹزی نے کہا کہ جب سات مریضوں میں مختلف علامات ظاہر ہوئیں تو انہوں نے 18 نومبر کو محکمہ صحت کے حکام کو ایک کلینیکل تصویر جو ڈیلٹا سے مطابقت نہیں رکھتی‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ اس مرحلے پر علامات کا تعلق عام وائرل انفیکشن سے تھا اور چونکہ ہم نے گذشتہ آٹھ سے 10 ہفتوں سے کووڈ 19 نہیں دیکھا تھا، اس لیے ہم نے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم کورونا کی تیسری لہر کے دوران ڈیلٹا کے بہت سے مریض دیکھ چکے تھے اور یہ کلینیکل تصویر ان سے نہیں ملتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر میں بہت ہلکی علامات تھیں اور کسی نے بھی اب تک مریضوں کو سرجری کے لیے داخل نہیں کیا تھا۔

ڈاکٹر کوٹزی نے وضاحت کی کہ ہم مریض کا علاج گھر پر کر سکتے تھے۔ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ جن کا میں نے علاج کیا ان میں سے اومی کرون کی علامات والے تقریباً 50 فیصد مریضوں کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔

گزشتہ اتوار کو، ڈاکٹر کوٹزی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ میں دو افراد کے نئے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد برطانیہ غیر ضروری طور پر گھبرا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ آپ کے ملک میں پہلے سے موجود ہے اور آپ کو معلوم نہیں۔

ان کے تبصروں کے بعد، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نئے وائرس کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے احتیاط کرنے پر زور دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کردہ انفیکشن یونیورسٹی کے طلبا میں تھے، لیکن اومی کرون کی شدت کو سمجھنے میں کئی دن یا ہفتے لگیں گے۔

ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ فی الحال ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ تجویز کیا جا سکے کہ اومیکرون سے وابستہ علامات دیگر اقسام سے مختلف ہیں۔