تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی ہدایت پریوٹیلیٹی اسٹورزپرآٹاسستاکردیاگیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:آٹےکی قیمتوں میں کمی کانوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- یوٹیلیٹی اسٹورزپر 20 کلوآٹےکاتھیلا 180 روپےسستا،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- اسلام آباد:10 کلوآٹےکےتھیلےکی قیمت میں 90روپےکمی
  • بریکنگ :- 10کلوآٹےکاتھیلا490سےکم کرکے 400روپےکاکردیاگیا،نوٹیفکیشن

امراض قلب اور شوگر کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ، طبی ماہرین کا اظہار تشویش

Published On 26 January,2022 08:41 am

پشاور: (دنیا نیوز) پاکستان میں امراض قلب سمیت شوگراور ذیابیطس کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے لگا، شوگرکے مریضوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، ماہرین صحت نے شوگراورامراض قلب کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کردیا۔

پشاورمیں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے زیرانتظام این سی ڈیز میں شامل مہلک امراض سے آگاہی کیلئے سیمینارمنعقد کیا گیا، طبی ماہرین کے مطابق این سی ڈیزمیں امراض قلب، موٹاپا، کینسر، ذیابیطس، شوگر اور بلڈ پریشر سمیت دیگربیماریاں شامل ہیں، ان بیماریوں سے ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 200 سے زائد اموات ہوتی ہیں جبکہ شوگر سے 1100 افراد موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں تاہم ان غیرضروری اشیاء پرٹیکس لگا دیا جائے جو ان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

کنسلٹنٹ فوڈ پالیسی پروگرام منور حسین کہتے ہیں کہ گزشتہ دوسالوں کے دوران ملک بھر میں شوگر کے مریضوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک کروڑ افراد ریڈ لائن پر ہیں جو کسی بھی وقت شوگرکے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

سیمینار میں شامل طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں امراض قلب سے روزانہ 47 اموات ہوتی ہیں، ذیابیطس کے مرض میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے جس سے ایک ماہ کے دوران 34,000 افراد کی جانیں گئیں جو انتہائی خطرناک ہے۔