دنیا نیوز: (ویب ڈیسک) نئی تحقیق سے بات سامنے آئی ہے کہ محض چند پاؤنڈ ہی وزن کم کر لینے سے انسان کا مدافعتی نظام نئے سرے سے ترتیب پاتا ہے جس کے نتیجے میں ڈیمنشیا اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے۔
محققین کے مطابق وزن کم کرنے کی کوششیں جسم میں موجود چربی کے خلیات کو زیادہ صحت مند بنا دیتی ہیں، کیونکہ جب کوئی شخص بہت زیادہ موٹا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں موجود چربی کے ٹشوز نقصان دہ سوجن پیدا کرتے ہیں جسے سوزش کہا جاتا ہے اور یہ مدافعتی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے۔
یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لوگ وزن کم کرتے ہیں تو ان کے جسم میں بننے والے نئے چربی کے خلیے اس طرح کی سوزش پیدا کرنے کے امکانات کم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسم کیلئے کم نقصان دہ ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری اضافی چربی بھی ختم نہ کر سکے تو بھی اس کی صحت میں بہتری آتی ہے۔
اس تحقیق کیلئے سائنسدانوں نے ان افراد کے نمونوں کا معائنہ کیا جنہوں نے معدے کی بائی پاس سرجری کروائی تھی اور 2 سال کے دوران اپنے جسمانی وزن کا 20 سے 45 فیصد تک کم کیا تھا، ان میں تبدیلیاں حیران کن تھیں اور مدافعتی خلیات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور کئی اقسام کے مدافعتی خلیات ان سطحوں تک آ گئیں جو عموماً دبلے پتلے افراد میں پائی جاتی ہیں۔
جرنل نیچر میٹابولزم میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ ان کے خون کی گردش میں بہتری آئی اور جینیاتی ایررز میں بھی کمی آئی، جس سے کینسر کے خطرے میں امکانی طور پر کمی آ سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کی شریک مصنفہ پروفیسر سوزین مینڈروپ نے کہا کہ ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی وزن میں کمی بھی صحت کیلئے فائدہ مند ہو سکتی ہے، زیادہ وزن کم ہونے کے بعد، چربی کا ٹشو بڑی حد تک دبلے افراد کے ٹشو جیسا ہو جاتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مٹاپے کی یادداشت اتنی مستقل نہیں جتنی پہلے تھی۔



