خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) صوبائی دارالحکومت میں دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کی ایمرجنسی پر غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 8 ماہ کے دوران پی آئی سی ایمرجنسی میں 2 لاکھ 82 ہزار 962 مریض رپورٹ ہوئے جبکہ اس عرصے میں 20 ہزار 530 پروسیجرز مکمل کیے گئے، اسی دوران 4 ہزار 719 پرائمری پی سی آئیز انجام دی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سب سے زیادہ 40 ہزار 936 مریضوں نے ایمرجنسی کا رخ کیا، اس ماہ 2 ہزار 726 پروسیجرز اور 627 پرائمری پی سی آئی کی گئیں، جبکہ جنوری 2026 میں 36 ہزار 879 مریض رپورٹ ہوئے، جن میں 3 ہزار 180 پروسیجرز اور 740 پرائمری پی سی آئیز کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق معمولی ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کیے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے جبکہ بعض مریضوں کو او پی ڈی میں طویل عرصے کے لیے ریفر کیا جا رہا ہے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی میں فوری پرائمری پی سی آئی نہ ہونے کے باعث سنجیدہ مریض بار بار ایمرجنسی آنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب ایم ایس پی آئی سی اور ترجمان ڈاکٹر عامر بٹ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی میں آنے والے تمام مریضوں کو دستیاب استعداد کے مطابق فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود پروسیجرز اور انجیو پلاسٹی کا عمل بھی جاری ہے۔