تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نورمقدم قتل کیس کی سیشن کورٹ میں سماعت
  • بریکنگ :- محمدعمران نہیں،میں نےلیپ ٹاپ اورڈی وی آرقبضےمیں لیا،تفتیشی افسر
  • بریکنگ :- کرائم سین کاافسرعمران وقوعہ پرمیرے بعدپہنچا،تفتیشی افسر
  • بریکنگ :- قتل کی اطلاع ملی تومیں آبپارہ دفتر سےتھانہ کوہسارگیا،تفتیشی افسر
  • بریکنگ :- میں پہنچاتوہمارےملازمین نےظاہرجعفرکوپکڑاہواتھا،تفتیشی افسر

پاکستان میں سعودی ولی عہد کے دورے کی تصویری جھلکیاں

Last Updated On 18 February,2019 06:05 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عوام سے حکمرانوں تک محبت اور احترام کا تاریخی رشتہ استوار ہے ۔ دونوں کے اربابِ اقتدار ایک دوسرے سے گہری محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔

اس کا تازہ مظہر وزیراعظم عمران خان کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی گاڑی خود ڈرائیو کرنا ہے اور وہ انھیں نورخاں ائیر بیس سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد تک خود کار چلا کر لائے ہیں۔

سعودی ولی عہد اتوار کی شب ٹھیک آٹھ بجے چک لالہ، راول پنڈی میں نورخان ائیر بیس پر اپنے خصوصی طیارے سے اترے تو ان کے استقبال کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مو جود تھی ۔ وزیراعظم عمران خان ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طیارے کے قریب معززمہمان ولی عہد کا پُرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر کابینہ کے ارکان اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔ بچوں نے معزز مہمان کو والہانہ انداز میں گلدستہ پیش کیا۔

اس کے بعد وزیراعظم عمران خان خود معزز مہمان کی کار چلاتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئے۔

سعودی ولی عہد کی سرکاری دورے پر آمد کے موقع پر جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جگہ جگہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔چک لالہ ایئربیس سے وزیراعظم ہاؤس تک سعودی ولی عہد کے قافلے کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔

قافلے کے عین اوپر فضا میں ایک جدید ہیلی کاپٹر پرواز کرتا رہا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس آمد پر سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی اور مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے شہزادہ محمد بن سلمان کو گارڈآف آنر پیش کیا۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے۔اس کے بعد وزیراعظم نے معزز مہمان کا اپنی کابینہ کے ارکان سے تعارف کرایا۔

سعودی ولی عہد کی وزیر اعظم عمران خان سے ون آن اور بعد میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، وزیر اعظم کی طرف سے شاہی مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔


راول پنڈی سے دارالحکومت تک شاہراہوں کو رنگا رنگ خیر مقدمی بینروں سے سجایا گیا تھا اور ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ثقافتی طائفے بھی سعودی ولی عہد کے والہانہ استقبال کے لیے موجود تھے۔ فوجی ہوائی اڈے پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، قبائل کے ثقافتی پروگرام اور علاقائی رقص پیش کیے گئے۔

دوسرے روز ایوان صدر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےاعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی۔

معزز مہمان کے اعزاز میں آرمی بینڈ کا خصوصی مظاہرہ کیا گیا۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان خوشگوار غیر رسمی بات چیت ہوئی۔

اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایون صدر پہنچے۔ انھیں گھڑ سوار دستے کے ساتھ خصوصی بگھی میں لایا گیا۔ مخصوص لباس میں ملبوس گھڑ سوار مسلح افواج کا چاق وچوبند دستہ خصوصی بگھی میں معزز مہمان کو ایوان صدر سے لے کر روانہ ہوا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا جس کے بعد صدر مملکت نے سعودی ولی عہد کو نشان پاکستان عطا کیا۔

ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان خوشگوار موڈ میں دکھائی دئیے، جہاں وزیراعظم عمران خان خوش نظر آئے وہیں ولی عہد محمد بن سلمان کے چہرے پر بھی مسرت و شادمانی جھلکتی نظر آئی۔

بعدازں نور خان ایئربیس پر وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، خسرو بختیار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور فواد چودھری سمیت اہم شخصیات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو رخصت کیا۔

معزز مہمان نے فرداً فرداً تمام میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے ساتھ پرجوش مصافحہ کیا۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کوروانگی سے قبل گلے لگایا۔