تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 27 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 219 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےکےدوران 70 ہزار 389 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےمیں کوروناکےمزید7 ہزار 963 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.31 فیصدرہی،این سی اوسی

امیر ملک ٹیکس چوروں کو پناہ دینا چھوڑ دیں، وزیراعظم عمران خان

Last Updated On 26 September,2019 11:38 pm

نیویارک: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے امیر ملکوں میں سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ کے خاتمے اور لوٹی گئی رقم واپسی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

نیویارک میں ”ترقی کے لیے فنڈنگ“ پر مکالمے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں طاقتور اشرافیہ نے لوٹا۔ سابق لیڈرشپ کرپٹ تھی۔ دس سال تک ملک کو لوٹا گیا اور پیسے منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کیے گئے۔ اگر منی لانڈرنگ نہ ہو تو یہ رقم غربت کے خاتمے اور ترقی پر خرچ ہو۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حیران ہوں کہ امیر ملک آف شور کمپنیوں کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟ غریب ملکوں سے پیسہ لوٹ کر امیر ملکوں میں لے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے پیسوں سے بنے مکانات دنیا کے بڑے شہروں میں ہیں۔ نظام میں خرابیوں کی وجہ سے ہم لوٹی دولت کو واپس نہیں لے پا رہے۔ امیر ملک ٹیکس چوروں کو پناہ دینا چھوڑ دیں۔

بعد ازاں غربت کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان اور ملائیشیا کی مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ امیر ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے غریب ملکوں کی مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے لیکن پاکستان میں جنگلات کی شرح بہت کم ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پانچ سالوں میں ایک ارب درخت لگائیں گے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ سماجی شعبے کی ترقی بھی ایک چیلنج ہے جس کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ معیشت کو بہتر بنا کرغربت کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ملائیشیا نے ٹمبر پالیسی کے تحت برآمدات میں اضافہ کیا۔ 2025ء تک متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار دگنا ہو جائے گی۔ ہماری موثر پالیسی کی وجہ سے خام تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ ملائیشیا کے پاس گیس اور تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی ذخائر قابل استعمال بنا کر غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ جبکہ 2025ء تک آلودگی پر قابو پانے اور صاف پانی کی فراہمی ترجیح ہے۔