تازہ ترین
  • بریکنگ :- سانحہ مری ،متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت
  • بریکنگ :- افسران واٹس ایپ پرچلتے رہے،تحقیقات میں انکشاف
  • بریکنگ :- افسران صورتحال کو سمجھ نہیں سکے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- افسران نےصورتحال کوسنجیدہ لیانہ کسی پلان پرعمل کیا ،رپورٹ
  • بریکنگ :- متعددافسران نے واٹس ایپ میسج تاخیر سے دیکھے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- کمشنر، ڈی سی ،اے سی نےغفلت کا مظاہرہ کیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سی پی او،سی ٹی اوذمہ داریاں پوری کرنےمیں ناکام رہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122کا مقامی آفس بھی کچھ نہ کرسکا
  • بریکنگ :- محکمہ ہائی وے بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سانحہ مری کی رپورٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے
  • بریکنگ :- 4 والیم پرمشتمل افسران اورمقامی لوگوں کے بیانات لیے گئے
  • بریکنگ :- تحقیقاتی کمیٹی کی مری میں محکمہ موسمیات کادفترقائم کرنےکی سفارش
  • بریکنگ :- مری کا ہل اسٹیشن تجاوزات کی وجہ سے گلیوں میں تبدیل ہوگیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- غیر قانونی عمارتیں گرانےکی سفارش کی گئی ہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- مشینری موجود تھی لیکن آدھا عملہ غائب تھا، رپورٹ

پٹرول 7 روپے مہنگا کرنے کی تجویز، وزیراعظم کی منظوری کے بعد اطلاق ہوگا

Last Updated On 29 July,2020 11:28 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم اگست سے پٹرولیم مصنوعات ساڑھے نو روپے فی لٹر تک مہنگی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے سمری پٹرولیم ڈویژن کو بھجوا دی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں پٹرول 7 روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل 9 روپے 50 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل 6 روپے اور مٹی کا تیل 6 روپے فی لٹرمہنگا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ 25 روپے 58 پیسے تک بڑھا دی تھیں۔ ہائی سپیڈ ڈیزل 21 روپے 31 پیسے اور مٹی کا تیل فی لیٹر 23 روپے 50 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 84 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔ ان دنوں ہائی سپیڈ ڈیزل 101روپے 46 پیسے، مٹی کا تیل 59 روپے 6 پیسے، لائٹ ڈیزل 55 روپے 98 پیسے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول ریکارڈ 25 روپے 58 پیسے مہنگا، قیمت ایک مرتبہ پھر سنچری کراس کر گئی

حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات مجموعی طور پر 56 روپے 89 پیسے فی لیٹر تک سستی کی تھیں۔

25 مارچ سے یکم جون تک پیٹرول 37 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا۔ اسی عرصے میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 42 روپے 10 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی جبکہ مٹی کا تیل 56 روپے 89 پیسے اور لائٹ ڈیزل 39 روپے 37 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا۔

31 مئی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید 7 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ تاہم اگلے ہی روز یعنی یکم جون سے ملک بھر میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

اسی روز پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ موگاز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے یکم جولائی 2020ء سے پیٹرولیم مصنوعات میں ہونے والے ممکنہ اضافے کا مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مصنوعات کی فراہمی میں کمی کی جاسکتی ہے۔

اس میں کہا گیا تھا کہ بحرانی صورتحال سے بچنے کے لیے ریگولیٹر ہونے کی حیثیت سے اوگرا کو او ایم سیز کو ملک میں ہر ریٹیل آؤٹ لیٹ پر اسٹاکس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرے۔

3 جون کو اوگرا نے پیٹرول کی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جبکہ پیٹرول ذخیرہ کرنے کی شکایات پر ملک بھر میں آئل ڈپوز پر چھاپے بھی مارے گئے۔ تاہم پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی تھی۔

ملک بھر میں پیٹرول کی مسلسل قلت کے باعث 8 جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت اور مارکیٹنگ کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے اور قیمتوں کے یکساں تعین کا طریقہ کار ختم کرنے کا اصولی فیصلہ سامنے آیا تھا۔