تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

عمران خان کیساتھ تعلق بھولنے والا نہیں، دراڑیں ختم ہو جائیں گی: جہانگیر ترین پرامید

Published On 20 August,2020 10:34 pm

لندن: (دنیا نیوز) حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ عمران خان کی باتیں سن کر بہت ہی خوشی ہوئی اور حوصلہ ملا۔ میری عمران خان سے رفاقت نہ ہونے کا تاثر ختم ہو گیا، ان کی بڑائی ہے جو میرے لیے ایسی باتیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے بڑا تعلق تھا، ہم نے اکٹھے جدوجہد کی۔ ہمارے تعلق کی گہرائی میں اور عمران خان ہی جانتے ہیں۔ ان کے تاثرات اور جذبات کی میں قدر کرتا ہوں۔

دنیا نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں اپنے دل کی باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک دکھ عمران خان کو ہے اور ایک دکھ مجھ کو بھی ہے کہ ہمارے تعلقات یہاں تک پہنچے، یہ افسوسناک بات ہے۔ سیاسی جدوجہد، پاناما کیس اور جوڈیشل کمیشن میں ہم ساتھ تھے۔ عمران خان اور میں روزانہ اکٹھے ہو کر کام کیا کرتے تھے۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہمارا تعلق بھولنے والا نہیں، مجھے وہ چیزیں یاد آتی ہیں۔ ہمارے بیچ دراڑیں پڑنے کا مجھے بھی افسوس بہت ہے۔ میرا عمران خان کا جیسا تعلق تھا، دراڑیں ختم ہو جائیں گی۔ دراڑیں ختم ہونے کی خواہش بھی ہے۔ میں وزیراعظم کے وژن کا سب سے بڑا حمایتی تھا۔ سوچنا ہوگا کہ میرا اور عمران خان کا تعلق ختم ہونے کا کس کو فائدہ ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین بھی ہے شوگر کمیشن رپورٹ کی وجہ سے یہ سارا کچھ ہوا ہے۔ شوگر کمیشن رپورٹ صحیح نہیں، عجیب الزامات ہیں۔ الزامات کا چینی کی قیمت بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عجیب سی بات ہے چینی کی قیمت بڑھنے پر کمیشن بنا لیکن رپورٹ میں یہ نہیں لکھا کہ چینی قیمت کیوں بڑھی؟ جب چینی 50 روپے کلو تھی، تب بھی یہ گڑ بڑ تھی، آج پاکستان کی دیگر صنعتوں میں بھی ایسی گڑ بڑ ہے۔

چینی کی قیمت بڑھنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر ریگولیٹ نہیں ہے۔ مال خریدنے والے ٹیکس میں اپنا نام نہیں دیتے۔ ہر کام میں اچھے کاروباری اور کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ ڈبل بکس ہوتی ہونگی، مگر میرا کاروبار ایسا نہیں ہے، اگر چینی پر شفاف تحقیقات ہوں تو سرخرو ہوں گا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم اپنے جذبات کا مجھ سے بھی اظہار کر چکے ہیں۔ انھیں بتایا گیا ہے میں چینی بحران میں شامل تھا لیکن میں تو چینی کی برآمد کے فیصلے میں شامل بھی نہیں تھا۔ چینی کی برآمد کا فیصلہ اسد عمر کی سربراہی میں ہوا تھا۔ پاکستان میں گنے کی قیمت زیادہ ہونے سے چینی مہنگی ہے۔ آٹے اور گندم میں کیا ہوا؟ وہاں تو میرا تعلق ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجناس کی قیمتیں طلب اور رسد کی بنیاد پر بڑھتی ہیں۔ گندم کی زیادہ ذخیرہ اندوزی خود حکومت کر رہی ہے۔ مارکیٹ میں گندم ریلیز کریں، مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حکومت نے 60 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کیوں کی ہے؟

حکومتی طرز عمل پر بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمیشہ فیصلہ دیر سے اور ہلکا کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں شارٹیج کے تاثر سے چینی مہنگی ہوئی، دراصل حکومت کو طلب اور رسد کو سنبھالنا ہوتا ہے۔