تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،قاسم سوری، پرویز خٹک اور دیگر کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان میں ایک ماہ سے سیاسی بحران تھا،صادق سنجرانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی خواہش ہے بلوچستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں،صادق سنجرانی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:جام کمال نے بھی بحران کے حل میں کردار ادا کیا،صادق سنجرانی
  • بریکنگ :- قائد ایوان عبدالقدوس بزنجو اور سپیکر جان جمالی ہوں گے،ظہور بلیدی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:تمام ساتھیوں کی مشاورت سے یکجا ہوئے ہیں،ضیالانگو
  • بریکنگ :- کوئٹہ:نیت صاف ہو تو تمام معاملات حل ہوجاتے ہیں،پرویز خٹک
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہے،پرویز خٹک
  • بریکنگ :- کوئٹہ:متفقہ طور پر پارٹی کی بقاء کیلئے کام کیاہے،عبدالقدوس بزنجو
  • بریکنگ :- اتحادیوں سے ملکر باقی پروسیس آگے بڑھائیں گے،عبدالقدوس بزنجو
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بی اے پی کے تمام اختلافات ختم ہوگئے ہیں،صادق سنجرانی

پاکستان میں شعبہ صحت کی بہتری، ڈبلیو ایچ او 886 ملین ڈالر خرچ کرے گا

Published On 05 November,2020 04:54 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان میں صحت کے شعبہ کی بہتری کے لیے آئندہ 5 سال کیلئے 886 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرے گا۔

اس کے لئے ڈبلیو ایچ او اور وزارت صحت کے مابین کنٹری کوآپریشن سٹریٹیجیز(سی سی ایس )2020-2025ء پر دستخط ہو چکے ہیں۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دستخط کی تقریب میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، سیکرٹری صحت ڈاکٹر عامر اشرف خواجہ اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ماہی پالا پلیتھا نے خصوصی شرکت کی۔

معاہدے کے اعلامیے کے مطابق حکمت عملی میں ایڈوانس یونیورسل ہیلتھ کوریج، ہیلتھ ایمرجنسی اور صحت مند آبادی کے سیکٹرز کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔

اس موقع پر معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ڈبلیو ایچ او کی پاکستان کے لیے شعبہ صحت میں معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شعبہ صحت کی بہتری میں عالمی ادارہ صحت کادیرپا عزم قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کے تحت پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے مابین شعبہ صحت کے حوالے سے تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کوویڈ۔19 پر قابو پانے سمیت دیگر ایمرجنسی و اصلاحاتی پروگرامز کے نفاذ میں ڈبلیو ایچ او کا اہم کردار ہے۔

اس مو قع پر ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ماہی پالا نے کہا کہ پاکستان کے ہیلتھ و ڈویلپمنٹ شعبوں میں تحقیق کے بعد ڈبلیو ایچ او کی جانب سے سی سی ایس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے شعبہ صحت میں بہتری کے لیے متعارف کردہ نئی اصلاحات بھی حکمت عملی کا حصہ بنائی جائیں گی۔

اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر عامر اشرف خواجہ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعمیری کردار ادا کیا جارہا ہے۔ مالی و ٹیکنینکل وسائل کی موبلائزیشن میں ڈبلیو ایچ او پروگرامز انتہائی کارآمد رہے۔