تازہ ترین
  • بریکنگ :- ہم نے ڈاکوؤں کےساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرنی ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مشرف نے 2 گھرانوں کی چوری معاف کرکےجرم کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سیاست میں ان ڈاکوؤں کےخلاف ہی آیاہوں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جعلی خبریں شائع کرکے مایوسی پھیلائی جارہی ہے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- تنقید اچھی ہوتی ہے لیکن پروپیگنڈانہ کیاجائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- چاہتاہوں ہمارامیڈیامہنگائی کی صورتحال پربیلنس کرے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- یادرکھیں ہمارا مقابلہ مافیاسے ہے ،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- بلوم برگ کہتاہےپاکستان کی اکانومی درست سمت گامزن ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 70 سال سےخراب چیزیں ایک دم ٹھیک نہیں ہوسکتیں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوئی طاقتورجیلوں میں نظرنہیں آتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- 3 بارکےوزیراعظم کےبچےبیرون ملک بیٹھےہیں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- میں ملک سے نہیں بھاگا،کیسز کاسامناکیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کہاجاتاہے کہ میں شہبازشریف سے ہاتھ نہیں ملاتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف کواپوزیشن لیڈرنہیں قومی مجرم سمجھتاہوں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف نے داماداوربیٹے کوملک سے فرارکرایا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف پارلیمنٹ میں 3،3 گھنٹےکی تقریریں کرتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف کی تقریر کم اورجاب کی درخواست زیادہ ہوتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مقصودچپڑاسی کےاکاؤنٹ میں 16 کروڑ روپے کیسے آگئے؟وزیراعظم
  • بریکنگ :- جب سوال پوچھاجائےتوکہتے ہیں بچےباہرہیں ان سے پوچھیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف کیس کاروزانہ کی بنیادپرسن کرفیصلہ ہوناچاہیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مجرموں سےمفاہمت کروں گاتو قوم سے غداری کروں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اپوزیشن کواین آراو نہیں دوں گا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- کمزور کی چوری سے نہیں طاقتور کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جب قانون کی بالادستی قائم ہوگی تو ملک ٹھیک ہوجائےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پارٹی ٹکٹ میرٹ پردیں گے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی،پی ٹی آئی سےلڑی جس سے نقصان ہوا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کسی نے رشتہ دار کیلئے ٹکٹ مانگا تو کمیٹی فیصلہ کرےگی،وزیراعظم

وزیراعظم سے طالبان وفد کی ملاقات، افغان امن عمل میں پیشرفت سے متعلق تبادلہ خیال

Published On 18 December,2020 05:43 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان کے وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں ملاقات کی جس میں افغان امن عمل میں پیشرفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا اس موقع پر طالبان وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انٹرا افغان مذاکرات پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لئے ایک تاریخی موقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے کہ افغان سٹیک ہولڈرز انٹرا افغان مذاکرات میں پیشرفت کے لیے مثبت کردار ادا کرتی رہےگے۔ انہوں نے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کے لئے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امن عمل خراب کرنے والوں کے کردار سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عمران خان نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن عمل میں خلل ڈالنے اور اسے پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے تمام فریقین سے پرتشدد کارروائیوں میں کمی اور جنگ بندی پر زور ددیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سمیت پورے خطے کی معاشی ترقی اور علاقائی یکجہتی کے لیے امن واستحکام ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پولیٹیکل کمیشن کے وفد کا یہ دورہ پاکستان کی خود مختار اور خوشحال افغانستان اور افغان امن عمل کو آسان بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا ایک حصہ ہے۔