تازہ ترین
  • بریکنگ :- سانحہ مری ،متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت
  • بریکنگ :- افسران واٹس ایپ پرچلتے رہے،تحقیقات میں انکشاف
  • بریکنگ :- افسران صورتحال کو سمجھ نہیں سکے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- افسران نےصورتحال کوسنجیدہ لیانہ کسی پلان پرعمل کیا ،رپورٹ
  • بریکنگ :- متعددافسران نے واٹس ایپ میسج تاخیر سے دیکھے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- کمشنر، ڈی سی ،اے سی نےغفلت کا مظاہرہ کیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سی پی او،سی ٹی اوذمہ داریاں پوری کرنےمیں ناکام رہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122کا مقامی آفس بھی کچھ نہ کرسکا
  • بریکنگ :- محکمہ ہائی وے بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سانحہ مری کی رپورٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے
  • بریکنگ :- 4 والیم پرمشتمل افسران اورمقامی لوگوں کے بیانات لیے گئے
  • بریکنگ :- تحقیقاتی کمیٹی کی مری میں محکمہ موسمیات کادفترقائم کرنےکی سفارش
  • بریکنگ :- مری کا ہل اسٹیشن تجاوزات کی وجہ سے گلیوں میں تبدیل ہوگیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- غیر قانونی عمارتیں گرانےکی سفارش کی گئی ہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- مشینری موجود تھی لیکن آدھا عملہ غائب تھا، رپورٹ

حکومت کیخلاف پی ڈی ایم کا 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان

Published On 04 February,2021 05:05 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کی مجوزہ 26 ویں آئینی ترمیم مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس ہوا، پی ڈی ایم کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے شرکت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے ویڈیو لنکے کے ذریعے خصوصی طور پر شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی ، شیری رحمان ، نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ ، پرویز رشید، قمر زمان کائرہ، سعد رفیق، ایاز صادق اور مریم اورنگزیب نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران آفتاب شیرپاؤ، اویس نورانی، اکرم درانی، محمود اچکزئی، ساجد میر، ڈاکٹر مالک، امیر حیدر ہوتی، عبدالغفور حیدری نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا دو نکات پر مشتمل تھا، لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفے ایجنڈا پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سینٹ انتخابات ملکر لڑنے کی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی اور لانگ مارچ کی تاریخ کا تعین کیا گیا، پیپلزپارٹی اجلاس میں سینٹ انتخابات سے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اجلاس کے دوران تمام جماعتوں نے شرکت کی۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 26 مارچ کو پورے ملک سے قافلے اسلام ابٓاد روانہ ہونگے۔ ہم نے کہا تھا اسلام آباد،پنڈی آپشن ہونگے، میاں صاحب کا یہی پیغام تھا آل ازویل۔

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سینیٹ انتخابات مشترکہ طور پر لڑے گی۔ سینیٹ الیکشن کے لیے حکومت کی مجوزہ 26 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے بعد استعفوں کا فیصلہ کیا جائے گا،انتخابی اصلاحات کے جامع پیکیج پر یقین رکھتے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی سے تعاون نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی کے اپنے ارکان ووٹ دینے کو تیار نہیں۔ ہماری لڑائی غیرجمہوری عمل کے خلاف ہے، جوبھی اس عمل میں ملوث اس کے خلاف ہے۔

فارن فنڈنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 23 اکاؤنٹس کو اب تک چھپایا جا رہا ہے، عمران خان کو صادق اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کرے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے عمران خان کو کرپٹ قرار دیا۔ ہمارا مقصد ناجائزحکومت سے نجات دلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل پی ڈی ایم کی ساری جماعت یوم یکجہتی کشمیر منانے کے لیے مظفر آباد جائے گی۔پی ٹی آئی کی حکومت نے کشمیر کو بیچ دیا۔

استعفوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ حوصلہ رکھیں اور انتظارفرمائیں۔