تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ

چیف جسٹس پاکستان کا ملک بھر کے پولیس افسران کی ڈگریاں چیک کرانے کا حکم

Published On 19 February,2021 08:20 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ تمام آئی جی اپنے افسران اور اہلکارں کی ڈگریاں اور دیگر تعلیمی اسناد چیک کروائیں اور سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ گلزار احمد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تمام آئی جیز کو پولیس افسران اور اہلکاروں کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی اور عام مقدمات میں فرق کیلئے عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھا جائے، پولیس پر غیر ضروری دباؤ ختم کرنے کے لیے تقرریوں و تبادلوں کا اختیار بھی آئی جی کو ہونا چاہیئے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی نیشنل پولیس بیورو کو مخلتف جرائم کی تفتیش کرنے والے ماہر افسران کی فہرست فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں ائٓی جی پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہونے سے پولیس کو فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ صرف لگژری گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، پولیس افسران سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال ختم کریں، پولیس گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے معاشرے میں منفی تاثر جا رہا ہے۔