تازہ ترین
  • بریکنگ :- کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان دنیامیں 140ویں نمبرپرآگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 180ممالک کاکرپشن پرسیپشن انڈیکس جاری کردیا
  • بریکنگ :- 2020میں پاکستان کانمبردنیامیں 124واں تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- 2020میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کااسکور 31تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- 2021میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کااسکور 28ہوگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- پاکستان میں کرپشن مزیدبڑھ گئی،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- پاکستان کرپشن رینکنگ میں 16 درجےاوپرچلاگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں اسکورکم ہوناکرپشن میں اضافےکوظاہرکرتاہے

کسی نےمجھ پرسلیکٹ ہونےکا الزام لگایا،ہماری رگوں میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں:بلاول

Published On 22 March,2021 09:07 pm

لاہور: (دنیا نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر کسی نے مجھ پر ‘’سلیکٹ’’ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے تو ہماری رگوں میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے، لاہور سے کوئی سیاسی خاندان ہے جن کا ماضی یہ رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ معنی خیز بیان لاہور میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کے بعد میڈٰیا سے گفتگو میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ہماری جماعت کی لانگ مارچ کے حوالے سے کافی تیاری تھی۔ راولپنڈی میں ہمارے کمرے بھی بک ہو چکے تھے۔ لانگ مارچ سے دس دن پہلے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کیا گیا۔ پتا نہیں یہ کس کا آئیڈیا تھا۔ استعفوں کا معاملہ سی ای سی میں رکھیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا جائے لیکن پی ڈی ایم نے دونوں میدانوں میں حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ جو چاہتے تھے ہم سسٹم سے باہر رہیں، وہ غلط ثابت ہوئے، جو لوگ غلط ثابت ہوئے انھیں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا احتساب کا مطالبہ آج ہو سکتا ہم تو تین نسلوں سے کہہ رہے ہیں ہر کسی کا احتساب ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام جماعتیں متحد رہیں، اگر ہم متحد نہ رہے تو فائدہ صرف عمران خان کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز سمیت کسی کا بھی یکطرفہ احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو نقصان پہنچانا ہے۔ قومی اور پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کا ماحول ہے، یہ سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہیے۔ پی ڈی ایم کے حوالے سے الگ پریس کانفرنس کرونگا۔