تازہ ترین
  • National :- سینیٹ اجلاس،انسدادگھریلوتشدداورتحفظ بل پرقائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ پیش
  • National :- بزرگ شہریوں کی فلاح کےبل پرقائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ بھی پیش
  • National :- دونوں رپورٹس سینیٹر ولید اقبال نے ایوان بالا میں پیش کیں
  • National :- اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس،بلاول بھٹوزرداری کا اظہارخیال

وزیراعظم نے جہانگیر ترین گروپ کی بات سننے کا عندیہ دیدیا: ذرائع

Published On 19 April,2021 08:51 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین گروپ کی بات سننے کا عندیہ دیدیا ہے۔

دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر 21 اپریل کو مدعو کیا گیا افطار ڈنر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کا وفد وزیراعظم عمران خان یا حکومتی کمیٹی سے ملاقات کرے گا۔ افطار میٹنگ وزیراعظم آفس سے ملاقات کا گرین سگنل ملنے کے بعد ملتوی کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی ہفتے جہانگیر ترین گروپ کی وزیراعظم یا ان کی نامزد کمیٹی سے ملاقات کا امکان ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ میں اور ہم خیال گروپ کسی بھی کمیٹی سے ملاقات نہیں کریں گے، ہمیں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، ہم صرف ان سے براہ راست ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر 30 ارکان اسمبلی کی بیٹھک، چند کی مستعفی ہونے کی پیشکش

خیال رہے کہ اس سے قبل جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر 30 سے زائد ارکان اسمبلی کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں چند ارکان نے مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی۔

جہانگیر ترین کے زیر صدارت اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی تھی۔ ارکان نے رائے دی کہ ناانصافیاں جاری رہیں تو استعفے کا آپشن موجود ہے۔ تاہم اجلاس میں فوری استعفوں کی آپشن کو مسترد کر دیا گیا۔

قبل ازیں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں کردار کشی کون کر رہا ہے لیکن پتا چل جائے گا۔ تینوں مقدمات میں چینی کی قیمت بڑھانے کا الزام نہیں، سیاست میں آکر کاروبار شروع نہیں کیا، بے بنیاد اور جھوٹی کہانیاں بنائی جا رہی ہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ پہلے کاشتکار تھا پھر کاروبار میں آیا، اس کے بعد سیاست میں آیا، سیاست سے کاروبار نہیں بنایا۔ میری پاکستان میں ایک نیک نامی ہے، کیسز میں سرخرو ہونگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ مجھ پر ایف آئی آر میں چینی کی قیمت کا کوئی تعلق نہیں، مجھے نہیں پتا مجھ پر ایف آئی آر کرانے کے پیچھے کون ہے، 8 سے 10 سال پرانے معاملات کی ایف آئی آر درج کی گئیں، یہ کیس ایس ای سی پی کے پاس ہونا چاہیے۔