تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی سیاسی قیادت سےمشاورت کےبعداہم فیصلوں کی منظوری
  • بریکنگ :- بیوروکریسی کےعدم تعاون کےمسئلےکےحل کی تجویز،پارٹی سفارشات منظور
  • بریکنگ :- حکومت اوربیوروکریسی کامل کرعوامی سطح پرڈلیورکرنےکامیکانزم تیار
  • بریکنگ :- صوبائی اورضلعی سطح پرکوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی
  • بریکنگ :- صوبائی وضلعی انتظامیہ،پارٹی عہدیداروں کوشامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- ارکان پارلیمنٹ اورٹکٹ ہولڈرزکوکمیٹیوں میں شامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- کوآرڈینیشن کمیٹیاں انتظامی امورپرمشاورت سےفیصلےکریں گی
  • بریکنگ :- حکومتی بورڈزمیں اعزازی عہدوں پرپارٹی رہنماؤں کی تقرریاں ہوں گی
  • بریکنگ :- لاہور:میرٹ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پارٹی رہنماؤں نےبیوروکریسی کےعدم تعاون سےمتعلق آگاہ کیا
  • بریکنگ :- ہمیں ڈلیورکرناہےہرعہدیدارکوکارکردگی دکھاناہوگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےپارٹی کی اہم سیاسی قیادت کی ملاقات

اسلاموفوبیا شدت اختیار کرچکا، مسلم ممالک اپنا بھرپور کردار ادا کریں: وزیراعظم

Published On 04 May,2021 05:00 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کی دل آزاری روکنے کیلئے قانونی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں ناموس رسالت ﷺ میں گستاخی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور اسلام فوبیا سے بین المذاہب نفرت کو ہوا ملتی ہے مسلم دنیا کو متحد ہوکر اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ او آئی سی کے رکن ممالک کے سفیروں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اسلاموفوبیا کا مسئلہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرچکا ہے میں نے وزیراعظم بننے کے بعد کوشش کی کہ مسلم ممالک اور مغربی دنیا کے مابین جو خلیج بڑھ رہی ہے اسے کم کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی دنیا نبی کریم ﷺ کی ناموس میں گستاخی برداشت نہیں کرتی جبکہ مغرب اسے آزادی اظہار گردانتا ہے۔ مغربی دنیا اس معاملے پر مسلمانوں کے جذبات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور مسلمان مغربی ممالک کے ذہن کو نہیں سمجھتے۔ مغرب کو اندازہ ہی نہیں کہ مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان ممالک نے مغرب کو اپنے احساسات اور جذبات سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ مغرب کیلئے مذہب کا تصور ہمارے تصور سے بہت مختلف ہے بدقسمتی سے کچھ عرصے بعد کوئی گستاخانہ واقعہ ہوتا ہے جس کے خلاف پوری مسلم دنیا میں احتجاج اور ردعمل ہوتا ہے جس پر مغرب یہ کہتا ہے کہ مسلمان تنگ نظر ہیں اور آزادی اظہار کے قائل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کوشش کی کہ مسلم قیادت کو اس معاملے پر متحد کروں اور ہم مل کر مغرب اور یورپی ممالک کے رہنمائوں کو سمجھائیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی ناموس اور تکریم کس طرح کا معاملہ ہے اور آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ہم ناموس رسالت میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمیں مغرب کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے سے عالمی سطح پر مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کو اس کے انتہا پسندوں سے شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ مغرب میں کوئی ایک مسلمان اگر دہشتگردی کے کسی واقعہ میں ملوث ہو تو سارے مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

ہمیں مغرب کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ خود کش حملوں اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ او آئی سی عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور اسلام کے صحیح تشخص اور امن کے پیغام کو اجاگر کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین المذہب ہم آہنگی کیلئے کوششیں کررہا ہے اسلام فوبیا سے بین المذاہب منافرت کو ہوا ملتی ہے اور تہذیبوں کے درمیان افہام وتفہیم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسلامی ممالک کے سفیروں نے اسلام فوبیا کے خلاف وزیراعظم کی کاوشوں کا خیرمقدم کیا۔