تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ

بھارت نے اپنے ہمسایوں کیساتھ ہمیشہ مذاکرات کی کوششیں سبوتاژ کیں: دفترخارجہ

Published On 03 August,2021 06:25 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران تین ترجیحات رواداری کی آواز، مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ہمسایوں کیساتھ ہمیشہ مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بہتر ہے بھارت ان ترجیحات کا چیمپئین بننے سے قبل ان اصولوں کی پاسداری کرے۔

بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے ترجیحات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے ماہ اگست کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کیلئے تین ترجیحات رواداری کی آواز،مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کا تعین کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ ایک ایسے ملک کی انتہائی منافقت ہے جس نے رواداری، مذاکرات کی کوششوں اور بین الاقوامی قانون کو منظم طریقے سے پاوں تلے روند ڈالا ہے اور خود کو ان تین ترجیحات کی آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ انتہاءپسند’ہندو توا‘نظریہ تمام بھارتی ریاستی اداروں میں سرائیت کر چکی ہے جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کا ریکارڈ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ دنیا کو رواداری کا درس دینے سے قبل بھارت اپنے ملک کے اندر معاملات درست کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ اگر بھارت امن کیلئے ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ تاہم مذاکرات کے بجائے بھارت نے پانچ اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے ذریعے ماحول کو مزید خراب کیا۔

زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرے جس سے خطے میں امن کو فروغ ملے۔ جہاں تک بین الاقوامی قانون کا تعلق ہے تو بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے زائد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی کھلم کھلا مخالفت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات بھی یو این چارٹر، سلامتی کونسل کے قراردادوں، فورتھ جینوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت خود کو تینوں ترجیحات کا چیمپئین کے طور پر پیش کرنے سے قبل ان اصولوں کی پاسداری کرے۔