تازہ ترین
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نے 150 ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کردی
  • بریکنگ :- اسلام آباد: رکنیت گوشوارے جمع نہ کرانے پر معطل کی گئی
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی 36،سینیٹ 3،پنجاب اسمبلی کے 69 ارکان کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- سندھ اسمبلی 14،خیبرپختونخوا اسمبلی کے 21 ارکان کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- بلوچستان اسمبلی کے 7 ارکان کی رکنیت بھی معطل کردی گئی
  • بریکنگ :- نورالحق قادری،فرخ حبیب،حماداظہر،شفقت محمودکی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- فہمیدہ مرزا،عامرلیاقت،راجہ ریاض،صداقت عباسی،خالدمقبول صدیقی شامل
  • بریکنگ :- رکن پنجاب اسمبلی اویس لغاری کی رکنیت معطل
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےیارمحمدرندکی رکنیت معطل کردی
  • بریکنگ :- معطل ارکان اسمبلی وسینیٹ اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- معطل ارکان کسی بھی قانون سازی میں شریک نہیں ہوں گے،الیکشن کمیشن

پاکستان اور چین کا افغانستان کی بدلتی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق

Published On 18 August,2021 11:17 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ژی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ مقاصد کے حصول اور افغانستان کی بدلتی صورتحال پر قریبی رابطہ برقراررکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے ٹیلیفونک رابطے میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اورخطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس تناظر میں پاکستان نے افغان امن عمل کی پرعزم حمایت کی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین نے" ٹرائیکا پلس" کا حصہ ہوتے ہوئے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں معاونت کی، افغان عوام اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا نہایت ضروری ہے، افغانستان کے جامع سیاسی تصفیہ کے لیے تمام افغانوں کو مل کر کام کرنا چاہیے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان عوام کی حمایت کا جاری رہنا ناگزیر ہے، عالمی برادری کو افغانستان کی مسلسل معاشی معاونت برقرار رکھنی چاہیے۔

شاہ محمودقریشی نے چینی وزیرخارجہ کو افغانستان کی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے آگاہ کیا، انہوں نے افغانستان سے غیرملکی سفارتکاروں، عالمی اداروں کے عملے،میڈیا کے نمائندوں کے انخلاء کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے بھی بتایا۔