تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

پاکستان، ترکی اور آذر بائیجان کی فوجی مشقوں کا نام ’تین بھائی 2021ء‘

Published On 11 September,2021 07:23 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان، ترکی اور آذربائیجان اپنی تاریخ کی پہلی مشترکہ فوجی مشقیں رواں ماہ کریں گے۔ اٰذر بائیجان میں نو روزہ عسکری مشقیں 12 ستمبر کو شروع ہوں گی اور انہیں ’تین بھائی-2021‘ کا نام دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کی ملکی وزارت دفاع نے گیارہ ستمبر کے روز بیان میں کہا کہ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کی مشترکہ فوجی مشقیں 12 ستمبر سے شروع ہو کر 20 ستمبر تک جاری رہیں گی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ان تینوں مسلم اکثریتی ممالک نے مل کر ایسی عسکری مشقوں کا منصوبہ بنایا ہے۔

قبل ازیں امسال ترکی اور آذربائیجان کے دستے ملکر بھی باکو میں ایسی مشقیں کر چکے ہیں، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے لائیو فائر مشقیں تھیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع کے مطابق ان سہ ملکی فوجی مشقوں کا مقصد آپس میں عسکری تجربات کا تبادلہ اور سپیشل فورسز کی سطح پر پہلے سے موجود تعاون میں مزید اضافہ کرنا ہے اور ان مشقوں کو  تین بھائی-2021‘ کا نام دیا گیا ہے۔

انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے گزشتہ برس آذربائیجان کی حکومت کی اس وقت بھرپور حمایت کی تھی، جب باکو کے فوجی دستے نگورنو کاراباخ کے عشروں سے متنازعہ چلے آ رہے وسیع تر خطے سے آرمینیائی نسل کی علیحدگی پسند فورسز کو وہاں سے نکالنے کی عسکری کوششیں کر رہے تھے۔

نگورنو کاراباخ اور اس کے ارد گرد کا آذربائیجان کا ریاستی علاقہ 1990ء کی دہائی سے آرمینیائی دستوں کے کنٹرول میں تھا اب لیکن گزشتہ برس کی مختصر جنگ کے بعد سے اس کی بیشتر علاقوں پر باکو حکومت کو دوبارہ کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔

ترکی کی سرحدیں سابق سوویت یونین کی جمہوریہ آرمینیا سے ملتی ہیں مگر دونوں ممالک کے مابین دو خود مختار ریاستوں کے طور پر سفارتی تعلقات کبھی قائم نہیں ہو سکے اور ان کی مشترکہ سرحد بھی نوے کے عشرے سے بند ہے۔