تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان نے2021ایکشن پلان کے7میں سے 4نکات پرعملدرآمد کرلیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نےمقررہ مدت سےپہلےخاطرخواہ پیشرفت کی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف پاکستان کااگلاریویوفروری2022 میں کرےگا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدکی سربراہی وزیرتوانائی محمدحماداظہرنےکی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان دونوں ایکشن پلانزکےاہداف کےحصول کیلئےپرعزم ہے،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کاتمام ایکشن پلانزپرپاکستان کے عملدرآمدپراطمینان کااظہار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کوایکشن پلانزکےبارےمیں جامع رپورٹ پیش کردی گئی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےحالیہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کاجائزہ لیا ،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےپاکستان کی نمایاں پیشرفت کوسراہا،وزارت خزانہ

مزید افغان مہاجرین کے متحمل نہیں ہوسکتے:قریشی کی امریکی ہم منصب سے ملاقات

Published On 23 September,2021 11:26 pm

نیویارک:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ہم مزید افغان مہاجرین کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انتونی بلنکن سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تجارت،سرمایہ کاری اورعوامی رابطے کے فروغ کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں کسی بھی ممکنہ انسانی بحران رکوانے کے لیے متحرک ہے لیکن ہم مزید افغان مہاجرین کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔

وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب کوافغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں عالمی برادری کے تعمیری اورمثبت کردارکا خواہاں ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردارپرامریکی اعتماد کا مظہر ہے جبکہ ملاقات کا محورافغانستان کی موجودہ صورتحال اورمستقبل کی پالیسی ہے۔

اس سے قبل جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈلائن میں امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ ، اور تنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری طالبان کو تسلیم کرنے سے متعلق روڈ میپ تشکیل دے۔ روڈ میپ تشکیل دینے کے بعد عالمی برادری طالبان سے براہ راست بات کرے، طالبان تمام مطالبات پر پورا اتریں تو انہیں مراعات بھی دی جائیں، توقعات پر پورا اترنا طالبان کے اپنے لئے اچھا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کے لئے طالبان کو تسلیم کرنا آسان ہوجائے گا، عالمی برادری کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انکے پاس اسکے علاوہ کیا آپشن موجود ہے؟ کیا حقیقت سے نظریں چرانا عالمی برادری کے لئے ممکن ہوگا؟ پاکستان بھی بین الاقوامی برادری کی طرح ، پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے، طالبان کو افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان سے ڈیل کرنے کے لئے نیا رویہ اپنانا ہوگا، پچھلا رویہ ناکام رہا ہے، طالبان سے وسیع البنیاد حکومت کے قیام، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے احترام کی توقع ہے، افغانستان کی حکومت کو امداد دے کر طالبان کو ترغیب دی جاسکتی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور امریکا افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرے، پاکستان طالبان کے ساتھ رابطوں کی بحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اچھی بات یہ ہے کہ طالبان ہمسایوں اور بین الاقوامی برادری کی سن رہے ہیں، طالبان نے پشتون اکثریتی کابینہ میں تاجک ،ازبک اور ہزارہ برادری کے اراکین شامل کئے، افغان حکومت میں اب تک خواتین موجود نہیں، ہمیں تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اطلاع ملی ہے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے، لڑائی ختم ہوچکی ہے، پاکستان کو بڑے پیمانے پر افغان پناہ گزینوں کے مسئلے کا سامنا نہیں ہوا۔