تازہ ترین
  • بریکنگ :- عدالت نےوزیراعلیٰ کےالیکشن کیخلاف درخواستیں منظورکرلیں
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ کاکل پنجاب اسمبلی میں دوبارہ گنتی کاحکم
  • بریکنگ :- عدالت کاپریذائیڈنگ افسرکو 25 ووٹ نکال کردوبارہ گنتی کاحکم
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ کیلئےمطلوبہ نمبرحاصل نہ ہوتوری پول کرایاجائے،لاہورہائیکورٹ

کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپوں کیساتھ مذاکرات ہورہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

Published On 01 October,2021 04:10 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

 غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے  کہا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔

انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ بات چیت ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی عمل کے بارے میں ہے۔ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں معافی دی جا سکتی ہے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہوں تاہم ممکن ہے کہ طالبان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’دہشتگردی ترک،آئین پاکستان کو تسلیم کریں تو ٹی ٹی پی کو معافی دینے کیلئے تیار ہیں‘

انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔

ٹی ٹی پی والے آئین پاکستان کو تسلیم کریں تو معاف کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں: وزیر خارجہ