تازہ ترین
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان

شاہد خاقان عباسی کا نیب آرڈیننس عدالتوں اور سینیٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

Published On 12 October,2021 09:45 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) شاہد خاقان عباسی نے نیب آرڈیننس عدالتوں اور سینیٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس صرف حکومتی چوری بچانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے، چیئرمین نیب ریٹائر ہو چکے، کوئی مشاورت نہیں کی گئی، ملک میں احتساب کا سرکس جاری ہے، ملکی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، کسی کو پرواہ نہیں۔

 سابق وزیراعظم و مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کو ریٹائرڈ ہوئے 4 دن گزر گئے، نہ مشاورت کا عمل شروع ہوا نہ ہوگا، تاحیات یہی چیئرمین نیب سند رہیں گے، حکومت نے جو بھی کھیل تماشے یا اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کرنی ہے وہ اسی چیئرمین نیب کے ذمہ ہے، آج کسی کو ملکی حالات کی پرواہ نہیں، آج کوئی ملک میں مہنگائی کی پرواہ نہیں کرتا، نیب آرڈیننس صرف حکومتی چوری کو بچانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت تباہ سے تباہ ہو رہی ہے وزیراعظم کو پرواہ ہے نہ ہی وزراء کو، جمعہ کی شام کو نیب آرڈیننس آیا ہے، اسےعدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا، نیب آرڈیننس سینیٹ میں بھی چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 16 اکتبوبر کو پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ہے، پیپلزپارٹی خود پی ڈی ایم چھوڑ کرگئے، اپوزیشن کے معاملات پر پیپلزپارٹی سے مشاورت ہوتی ہے مگر پی ڈی ایم کا حصہ نہیں۔