تازہ ترین
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کا 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان
  • بریکنگ :- 25 مئی کو 3 بجےسری نگرہائی وے پرملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرمکتبہ فکرکےلوگ لانگ مارچ میں شرکت کریں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلیوں کی تحلیل اورشفاف الیکشن کی تاریخ چاہیے،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی تحلیل اورالیکشن کی تاریخ ملنےتک اسلام آباد رہیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- بیوروکریسی نےغیرقانونی کارروائی کی توایکشن لیں گے ،عمران خان
  • بریکنگ :- فوج کوکہتاہوں آپ نیوٹرل ہیں،نیوٹرل ہی رہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجیل سےنہیں ڈرنا،جان کی قربانی دینی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- باربارکہا جاتاہے جان کو خطرہ ہے،کوئی خطرہ نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم جان کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم چوروں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- خوف ہےیہ لوگ پٹرول ،ڈیزل ،انٹرنیٹ بندکردیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انٹرنیٹ،پٹرول ،ٹرانسپورٹ بندہو گی،پہلےسےتیاری رکھیں،عمران خان

انسانی بحران کا خدشہ، عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر افغانستان کی مدد کرے: شاہ محمود

Published On 11 November,2021 11:37 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران کا خدشہ ہے، افغانستان میں آبادی کی نقل مکانی کے پیش نظر عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر مدد کرے۔

ٹرائیکا پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائیکا پلس کے نوے اجلاس میں شرکت پر سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، اجلاس تین ماہ کے وقفے سے دوبارہ ہو رہا ہے، اس عرصے کے دوران افغانستان بنیادی تبدیلیوں سے گزرا۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ افغان عوام کی معاشی مدد کی جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کابل میں نئی انتظامیہ فعال ہے، عبوری کابینہ کی تشکیل ہوچکی، رابطہ نا صرف بحال ہونا چاہیے بلکہ اس میں اضافہ ہونا چاہیے، مستقبل کے اقدام پر طالبان کی طرف سے حوصلہ افزا بیانات سامنے آئے۔

دوسری جانب مشیر قومی سلامتی معید یوسف سے امریکی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کے اقلیتی اسٹاف ڈائریکٹر کرس سوچا نے ملاقات کی، جس میں فریقین نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقین نے مثبت سمت میں آگے بڑھنے، دو طرفہ تعلقات اور تمام شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، افغانستان کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جانی چاہیے، مستحکم اور پر امن افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔