تازہ ترین
  • بریکنگ :- عوام کی بڑی تعداد دیکھ کر بہت خوش ہوں،شیخ رشید

بلاول نے یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا

Published On 31 January,2022 09:38 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہد سے یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے سینیٹ میں سابق وزیراعظم کے بیان کو سراہا۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زردای نے کہا کہ یوسف گیلانی کی جمہوریت کے لئے خدمات جمہوریت پسندوں کے لئے روشن مثال ہیں، پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے کہ جس کے نمائندگان خود کا احتساب کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے جدوجہد کی یہاں تک کہ عوام کی خدمت کے جرم میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے سٹیٹ بینک ترمیمی بل کے حوالے سے متعصبانہ کردار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے ملی بھگت کرکے سٹیٹ بینک ترمیمی بل کو منظور کروایا۔

یوسف رضا گیلانی اپنی جماعت کی خاموشی سے رنجیدہ

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میں مخالفین کے سخت الفاظ پر حیران نہیں ہوں، اپنی جماعت کی خاموشی سے رنجیدہ ہوا ہوں۔

پارلیمنٹ ہاوس میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے اپنے کون ہیں یہ تلاش کرنا میڈیا کا کام ہے میرا نہیں۔ اگر اور مگر سے تاریخ نہیں بنتی، ہماری جماعت میں جمہوریت ہے، خود پر ہونے والی تنقید کا احترام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کا بل جب پہلی بار قومی اسمبلی میں آیا تو 13 ممبرز موجود نہیں تھے، سینٹ میں 11 اراکین غیر حاضر تھے، غیر خاصر ہونے پر کسی ممبر کی نیت پر شک نہیں کر رہا۔ رات کے ایک بجے شب خون مار کر ایجنڈا لے آئیں گے تو صبح 10 بجے کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ جس طرح اسٹیٹ بینک کا بل لایا گیا، یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔ میں خود سپیکر رہا ہوں، جب بھی بل لانا ہوتا تھا تو پہلے ایڈوائزری کمیٹی میں بات کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کا اتنا اہم بل سینٹ ایڈوائزری کمیٹی میں لایا نہیں گیا، چیئرمین سینٹ نے روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لیے آدھے گھنٹے کے لیے اجلاس موخر کیا گیا، اگر میں ایوان میں موجود بھی ہوتا تو اسٹیٹ بینک بل پر رائے شماری ملتوی کر دی جاتی۔ ہماری اور اپوزیشن کی پالیسی ایک ہے۔ ہم اپنا لانگ مارچ موثر انداز میں کریں گے۔

سٹیٹ بینک بل پاس ہونے پر یوسف رضا گیلانی نے استعفیٰ پارٹی کو بھجوا دیا

سٹیٹ بینک بل پاس ہونے پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ سے قائد ایوان سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئ ےکہا ہے کہ استعفیٰ پارٹی کو بھجوا دیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں اپوزیشن لیڈر نہیں رہ سکتا، چیئرمین سینیٹ حکومت کے سہولت کاربنے، جوایجنڈا دیا گیا اس میں نہیں لکھا تھا اسٹیٹ بینک بل پیش ہوگا۔

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر، چیئرمین سینیٹ کا رول نیوٹرل ہونا چاہیے، انہیں کسی صورت متنازع نہیں ہونا چاہیے، آپ نے 30 منٹ تک اجلاس موخر کیا، آپ حکومت کے سہولت کار بنے، دوبارہ گنتی کے دوران تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دینا پڑا، آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ 25 جنوری کو قومی اسمبلی نے سٹیٹ بینک بل کو پاس کیا، مجھے جو ایجنڈا دیا گیا اس میں نہیں لکھا تھا کہ سٹیٹ بینک بل پیش ہوگا، آدھی رات کو سینیٹ کا ایجنڈا جاری کرنا مناسب نہیں تھا، اتنے اہم ایجنڈے کے لیے کچھ موقع تو ملنا چاہیے تھا، کمیٹیاں اس لیے بنائی گئی ہیں کہ وہاں بحث کرائی جائے۔

غیر حاضری پر یوسف رضا گیلانی کا شکر گزار ہوں، وسیم شہزاد

قائد ایوان وسیم شہزاد کا ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے دن یوسف رضا گیلانی کی غیر حاضری پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔

یوسف رضا گیلانی کے بات کا جواب دیتے ہوئے وسیم شہزاد کا کہنا تھا کہ ایوان کا ایجنڈا ضرور جاری کیا جاتا ہے لیکن کونسا ایجنڈا کس وقت ایوان میں پیش جائے گا یہ نہیں بتایا جاتا۔ ہاؤس کا مکمل ایجنڈا اہم ہوتا ہے، ہمیں ایجنڈے کے معاملے پر پسند، ناپسند کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔

پی ٹی آئی سینیٹر وسیم شہزاد نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ منفی ہے، ان کے مؤقف کی جیت ہو تو سب ٹھیک ورنہ جمہوریت و آئین سب کو غلط قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے رہنما الٹے سیدھے القابات دیتے ہیں۔

انہوں نے قائد حزب اختلاف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے قانون کے مطابق ہاؤس کو چلانا ہوتا ہے اور قانون کے مطابق ہی اس روز چیئرمین سینیٹ نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

حکمرانوں نے ملک کی خود مختاری کا سودا کیا، مشتاق احمد

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ کے ذریعے قائد کے سٹیٹ بینک کو فروخت کردیا، حکومت نے آئی ایم ایف کی جانب سے ڈرافٹ کردہ بل ایوان سے منظور کرایا، جس دن یہ بل منظور کیا گیا وہ دن اس سینیٹ، پارلیمنٹ اور پاکستان کی آزادی کے لیے سیاہ دن تھا۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کرانے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بتاتے ہوئے قانون سازی کو ملک و قوم سے غداری قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ملک کی خود مختاری کا سودا کیا ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ترمیمی بل منظور کرکے گورنر اسٹیٹ بینک کو وائسرائے اور آئی ایم ایف کو ایسٹ انڈیا کمپنی بنا دیا گیا ہے اور بالکل اسی طرح جس طرح سلطنت عثمانیہ کا جب مرکزی بینک پر اختیار ختم ہوا تو سلطنت عثمانیہ ختم ہوگئی، اسی طرح اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہونے سے پاکستان کی خود مختاری، اس کا نیوکلیئر پروگرام شدید خطرے میں پڑ گیا ہے، بل منظور کرا کے پی ٹی آئی نے ملک سے غداری کی ہے۔

ہم اپوزیشن اور نہ ہی حکومت کا حصہ ہیں، دلاور خان

سینیٹر دلاور خان نے اسٹیٹ بینک بل کی حمایت کرنے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے گروپ کی ایک الگ حیثیت ہے، یوسف رضا گیلانی کو ووٹ اس لیے نہیں دیا کہ ہم پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں بلکہ ہم نے قائد حزب اختلاف کے لیے ووٹ اس لیے دیا کیونکہ ہم اعظم نذیر تارڑ کو نہیں جانتے تھے۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ اب یوسف رضا گیلانی ہمیں بتائیں کہ ہم نے ان کی جماعت کے اجلاس میں کبھی شرکت کی ہے؟ ہم نے کبھی اے این پی یا جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں شرکت کی؟ ہم اپوزیشن کی کسی جماعت کا حصہ ہیں اور نہ ہی حکومت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے رابطہ کیا اور کہا کہ اجلاس میں شرکت کریں، یوسف رضا گیلانی خود اپنے چیمبر میں نہیں تھے لیکن وزیر خزانہ شوکت ترین نے ملاقات کرکے بل کی حمایت کا کہا، میرے گروپ کے اوپر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں، ہمارے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، ہمارے خلاف کیوں کارروائی کی جائے؟ کیا میرے پاس سے 15 کلو چرس یا ہیروئن پکڑی گئی ہے کہ میرے خلاف کارروائی کی جائے۔