تازہ ترین
  • بریکنگ :- رحیم یارخان:فیروزہ میں ٹرک منی کوسٹر پرالٹ گیا
  • بریکنگ :- حادثے میں 13 افرادجاں بحق،5 زخمی، ریسکیو حکام
  • بریکنگ :- رحیم یارخان: منی کوسٹرمیں 18 افراد سوار تھے،ریسکیوحکام
  • بریکنگ :- مین شاہراہ پرسیوریج کا پانی جمع ہونےسےمنی کوسٹرپھنس گئی تھی
  • بریکنگ :- رحیم یارخان:روڈپرپہلےسےپھنسی کوسٹرپرٹرک آگرا،ریسکیوحکام

کراچی والوں کے لیے بارش کی نوید تہوار جیسی

Published On 23 June,2022 08:54 pm

کراچی: (صالحہ فیروزخان) شہر قائد میں ماہ جون سے سر مئی بادلوں کے ڈیرے چھانے لگے تھے، جسے دیکھ کرشہر قائد کے باسیوں نے امید لگائی کہ بارانِ رحمت برسنے کو ہے لیکن محکمہ موسمیات نےبتایاکہ مون سون سے قبل جون میں بادلوں کا چھا جانا معمول ہے، جون کے وسط سے پری مون سون بارش کی تو پیش گوئی کی جس میں بوندا باندی اور مضافاتی علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا تھا۔

ماہ جون اورپری مون سون سیزن

ملک بھر میں جون کے تیسرے ہفتے سے پری مون سون بارشوں کا آغازہوا لیکن کراچی والےبونداباندی پر ہی گزاراکررہےتھے، اسی کیساتھ سندھ کےمختلف اضلاع میں آندھی کیساتھ ہلکی بارش ہوئی جس میں گھوٹکی،ٹنڈومحمد خان،میرپورخاص، کےعلاقے شامل ہیں پھربالآخرکراچی میں 22جون کی شام سے آندھی چلی اور پیش گوئی سے بھی زیاداہ تیز بارش ہو گئی شہر کے مختلف علاقوں میں درمیانے تا تیز درجے کی بارش نے شہر جل تھل کر دیا سب سے زیادہ بارش ناظم آباد میں 38ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

پری مون سون کے پہلے اسپیل میں درخت اکھڑ گئے نالے ابل گئے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا دیواریں گری جسکے نتیجےمیں3افراد جاں بحق دو زخمی ہوئے پری مون سون کے ایک گھنٹے کے اسپیل نے شہر میں ہلچل مچا دی جبکہ چیف میٹ سردارسرفراز کاکہنا ہےکہ کراچی میں مون سون بارش کا مکمل طور پر آغازجولائی کے پہلے ہفتے سے ہو سکتا ہے شمال مشرقی پنجاب ،کشمیر ،خیبرپختون خواہ اور سندھ میں معمول سے زائد بارشیں متوقع ہیں۔

یادرہےکہ کراچی سمیت سندھ میں معمول کی بارش کےاعدادو شمار140ملی میٹرہے

2022کی موسمیاتی تبدیلیاں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کا دورانیہ بڑھا ہے وقت سے پہلے موسم گرماکا آغازاس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ آنے والے پانچ سالوں میں سے کوئی ایک سال گرم ترین ہوگااور اس سال دنیاکا درجہ حرارت1.5کی ڈگری کو چھو سکتاہے۔ اس بات کا خدشہ عالمی موسمیاتی ادارےنےبھی ظاہرکیاتھا۔یہ گرم ترین سال 2030سے2050 کے دوران ہوسکتاہے لیکن صورتحال اتنی گمبھیرہوگئی ہےکہ دنیا اس خطرناک صورتحال سےقریب ہوتےجارہی ہے

اسی طرح بارش کےبارے میں بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون سیزن میں بھی کافی حد تک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جیسے کبھی خشک سالی توکبھی کسی سال طوفانی بارشوں کاہوجانا یہی وجہ ہے جو پری مون سون میں دھواں دار بارش دیکھنے میں آئی رواں سال کی پری مون سون کی بارش کے چھوٹے سے ٹریلر نے 2020 کے مون سون کی یاد تازہ کی

2020 کی تباہ کن بارش کی صورتحال پرایک نظر

کراچی میں سال 2020 میں 400ملی میٹر سے زائد ریکارڈ توڑ بارش ہوئی جس کا ذکرعالمی سطح پر شہ سرخیوں میں ہوتا رہا۔ کہیں تباہ کن مناظر دیکھنے کو ملے اور اس کے باعث متعدد شہری زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ان تمام نقصانات کی سب سے بڑی وجہ جو سامنے آئی وہ سکڑتے ہوئے برساتی نالے، نالوں پر آبادی اور تجاوزات، کچرے کے ڈھیرتھے، سیلابی پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہ تھا۔

مون سون سسٹم کہاں سے آتا ہے؟

مون سون ہوائیں انڈیااوربنگلہ دیش سےہوتےہوئےپاکستان میں داخل ہوتی ہیں۔ دواطراف سے مون سون آتا ہے جس میں ایک شمالی بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے۔ خلیج بنگال سے چلنے والی ہوائیں انڈیااور بنگلہ دیش سےہوتےہوئےآتی ہیں، جبکہ بحیرہ عرب سے آنے والی ہواِئیں پری مون سون کاباعث بنتی ہیں۔ کبھی بے آف بنگال سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بھی پری مون سون سسٹم حرکت میں آجاتا ہے، مون سون کسی مخصوص مقام پر نہیں برستا بلکہ یہ وسیع پیمانے میں پھیلنے والا سسٹم ہوتا ہے جسے موسمی اصطلاح میں ٹیلی کنکشن ویدر میکنزم کہا جاتا ہے۔

ساوتھ کلائیمیٹ آوٹ لک فورم کے مطابق پورے ساوتھ (انڈیا، بنگلا دیش، نیپال، مالدیپ، سری لنکا، پاکستان) میں اچھی بارش کا امکان ہے۔

شدید بارش اور اربن فلڈنگ کا خدشہ

چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ زیادہ بارشوں سے سیلاب کا خطرہ موجودہے۔جس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹرمینیجمٹ کیساتھ بلدیاتی اور صوبائی حکومتوں کو مطلع کردیا گیا ہے تاکہ کراچی اور کراچی والے کسی بھی نقصان سے محفوظ ہو سکیں

محکمہ موسمیات نے معمول سے زائد بارش کی پیش گوئی کس نتیجے پرکی؟

بحر الکاہل اور بحر عرب میں درجہ حرارت معمول سے کم ہیں ۔ درجہ حرارت معمول سے کم ہونے سے لانینا حرکت میں ہےاور لانینا کی موجودگی میں بارش زیادہ ہوتی ہےگزشتہ دس ماہ سے لانینا میں سرگرمی دیکھنے میں آئی ہےچیف میٹ سردار سرفراز نے آگاہ کرتےہوئےکہاکہ مون سون دومراحل سے ہوتا ہواگزرے گا، پہلا مرحلہ 1جولائی سے15 اگست تک ہوگا جبکہ دوسرا مرحلہ15 اگست سے 31 ستمبر تک ہوسکتا ہے، بحرالکاہل میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہوتا تو النینو متحرک ہوتا ہے تو پھر مون سون بارشیں کم ہوتی ہیں۔

بحیرہ ہندکے مشرقی حصہ یعنی انڈونیشیا اور مغربی حصہ یعنی صومالیہ ہیں جو انڈین اوشین ڈائپول کہلاتا ہے جن کے درجہ حرارت پر بھی پاکستان کا مون سون سسٹم انحصار کرتا ہےا اگر درجہ حرارت مثبت میں جائے تو بارش زیادہ ہوتی ہے جیسے حالیہ صورتحال ہے-اگر منفی ہو تو یہ سلسلسہ کمزور ہوجاتاہےاور اگر نیوٹرل فیز میں ہو تو درمیانی بارش ہوتی ہے

بارش کا ایک سسٹم ویسٹرن ڈسٹربنس کہلاتا ہے

ویسٹرن ڈسٹربنس کا سسٹم مغرب سے آتاہے عموما مغربی سسٹم موسم سرما میں متحرک ہوتاہےیورپ اور مڈل ایسٹ سے سلسلہ آگے بڑھتا ہے، یعنی بحیرہ اوقیانوس سے ہوتے ہوئےترکی افغانستان ایران کے راستے سے ہوتا ہوا پاکستان تک پہنچتا ہے جسکے نتیجے میں موسم سرما کی بارش ہوتی ہے جس کے اثرات دسمبر سے مارچ کے دوران دیکھنے میں آتے ہیں رواں سال موسم سرما کی معمول سے کم بارش ہوئی