ماورائے عدالت قتل و تشدد روکنے کیلئے پولیس کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے: سپریم کورٹ

Published On 29 November,2025 02:06 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف فیصلہ جاری کردیا کہ تشدد، غیر انسانی و توہین آمیز سلوک اور ذاتی وقار کی پامالی کسی صورت جائز نہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے، کیوں کہ وہ استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس عمل کو روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے، زندگی کے حق کو سب سے اعلیٰ انسانی حق قرار دیا گیا ہے، اور آئین ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ریاست ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے، حراستی تشدد اور قتل کو روکے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد، ماورائے عدالت قتل کیخلاف یہ آئینی ضمانتیں قانونی اصولوں کی اساس ہیں، غیر قانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں پسندیدہ ہیں نہ ہی قابلِ جواز ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کا اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کو یقینی بنانا ہے، پولیس فورس آئین میں درج بنیادی حقوق کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی پابند ہے، پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جب کوئی سرکاری اہلکار قانون پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچاتا ہے، تو اس سے شفاف ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے، پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن گرفتاری آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف گرفتاری، غیر انسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا نہ صرف مجرمانہ فعل ہے، بلکہ یہ فعل مس کنڈکٹ میں بھی شمار ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور تشدد کے ذریعے درخواست گزاران نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی، درخواست گزاران کا یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے، پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کی محکمانہ کارروائیاں ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کردیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 کسی شخص کی گرفتاری اور حراست کے حوالے سے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتا ہے، کوئی بھی گرفتار شخص گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا، گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہوسکتی۔

عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر جاری کیا، تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے، اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔

نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ کارروائی کے فیصلے کیخلاف پنجاب سروس ٹربیونل سے درخواست گزاروں نے رجوع کیا تھا، پنجاب سروس ٹربیونل نے انکی نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے کیس پر سماعت کی۔