خوارج کی بڑھتی دہشتگردانہ سرگرمیوں نے پشاور کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Published On 29 November,2025 05:56 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وادیِ تیراہ سے پنپنے والی خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

خوارج نے ایک دفعہ پھر تیراہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے پشاور پر دہشت گرد حملے شروع کر دیئے۔

تیراہ اور پشاور کا درمیانی فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر اور سفر کا وقت صرف دو گھنٹے ہے، 24 نومبر کو پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے حملے میں ملوث افغان خوارجیوں نے حملے کے لیے تیراہ کا راستہ استعمال کیا۔

26 نومبر 2025 کو پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں گیس پائپ لائن کو بھی تیراہ سے منسلک خارجی عناصر نے آئی ای ڈی سے تباہ کیا۔

ماضی میں ٹی ٹی پی کے سابق خوارجی کمانڈر حکیم اللہ محسود کا مرکزی ہیڈ کوارٹر طویل عرصہ تک تیراہ میں قائم رہا، جہاں سے وہ پورے قبائلی علاقے، پشاور اور ملک بھر میں کارروائیاں کرتا رہا۔

حالیہ متعدد حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی تیراہ میں قائم نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے، سانحہ اے پی ایس 2014 کی منصوبہ بندی بھی خوارج کے تیراہ میں واقع انہی خفیہ مراکزِ میں کی گئی تھی۔

تیراہ ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اگر صوبائی حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

وادی تیراہ میں کسی بھی ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل مقامی آبادی کا عارضی انخلا ضروری ہے، ٹیرر کرائم نیکسس کے اہم مفادات بھی اسی خطّے سے جڑے ہیں۔

تیراہ میں سخت اور فوری ٹارگٹڈ ایکشن کے بغیر پشاور مکمل طور پر خطرے کی زد میں ہے، خیبر پختونخوا حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور دو ٹوک فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ صوبے کا امن یقینی بنایا جا سکے۔