27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں: دفتر خارجہ

Published On 30 November,2025 10:40 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی پر بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پارلیمان سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بے بنیاد اور غلط اندیشوں پر گہری تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام جمہوریتوں کی طرح دیگر قانون سازی کے ساتھ آئینی ترمیم بھی پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندوں کا اختیار ہے،27 ویں آئینی ترمیم کے ہوتے ہوئے آئین پاکستان میں درج مناسب طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے آئین کے مطابق انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے لیے پر عزم ہے، پاکستان ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کام کو اہمیت دیتا ہے، افسوسناک ہے کہ جاری کردہ بیان میں پاکستان کے خیالات اور زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کی گئی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے خود مختار فیصلوں کا احترام کریں، ہائی کمیشنر ایسے تبصروں سے گریز کریں جو سیاسی تعصب اور غلط معلومات کی عکاسی کرتی ہوں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں، وسیع استثنیٰ کی شقیں احتساب کو کمزور کرتی ہیں جو قانون کی حکمرانی کا بنیادی ستون ہے۔