خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کے لیے چیئرمین الیکشن بورڈ لاہور ہائیکورٹ نے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دو سے چھ لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر 15 لاکھ جرمانہ یا نااہلی ہو سکتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہوں گے، بار روم میں کسی قسم کا اشتہاری مواد لگانے پر پابندی عائد ہوگی جبکہ امیدوار یا سپورٹرز کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے مہم چلانے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی مہم کی اجازت واٹس ایپ کے ذریعے ہو گی جبکہ مد مقابل امیدوار کے خلاف بیان بازی اور پریس کانفرنس پر پابندی عائد ہوگی اور انتخابی مہم کے دوران مذہبی سیاسیت سماجی تقریبات منعقید کرنے پربھی پابندی عائد ہو گی۔
علاوہ ازیں ایک امیدوار کو پانچ سے زائد وکلا کے ہمراہ انتخابی سرگرمی پر اور الیکشن ڈے سے قبل یا دور ان آؤٹ سائیڈ کی انتہابی مہم پر پابندی عائد ہو گی، امیدوار یا سپورٹر کی جانب سے دعوتوں اور ضیافتوں پر بھی مکمل پابندی عائد ہو گی۔
امیدواروں کو انتخاںی مہم کے دوران صرف ایک بار مخدود ریفریشمنٹ کی اجازت دی گئی ہے جبکہ امیدوار 25 سے 27 فروری تک علیحدہ الیکشن آفس قائم کر سکیں گے تاہم الیکشن آفس میں صرف ایک فلیکس یا بینر تصویر کے ساتھ لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔
سپورٹر میٹنگ میں سنگل ڈش ایک میٹھے کی اجازت ہو گی خلاف ورزی پر نااہلی ہوگی جبکہ ہائیکورٹ بار میں اجتماع یا قطار بنا کر ووٹ مانگنے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔
مزید براں انتخابی مہم پولنگ سے 24 گھنٹے ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔