خلاصہ
- لاہور:(محمد اشفاق ) لاہور ہائیکورٹ میں پولیس کی غیر حراست سے شہری کی عدم بازیابی کے کیس کی سماعت عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اگر مغوی بازیاب نہ ہوا تو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مغوی علی حسن کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار نے بتایا کہ ایک سال قبل منڈی بہاؤ الدین پولیس نے بیٹے کو گھر سے اٹھایا مگر کسی مقدمے میں پیش نہیں کیا دوران سماعت ایڈیشنل آئی جی پنجاب عمران ارشد، آر پی او گجرانوالہ خرم شہزاد ، دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے بتایا کہ مقدمے کی تفتیش تبدیل کی ہے جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
جسٹس فاروق حیدر نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا کہ عمران صاحب ابھی تک مغوی بازیاب نہیں ہوا، اگر مغوی بازیاب نہ ہوا تو ہم اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ آپ نے جو وردی اور میں نے جو گاون پہنا ہے یہ ذمہ داری ہے، ہمیں آگے جا کر اللہ کو جواب دینا ہے، روز قیامت یہ ماں اللہ کو نہیں کہے گی کہ میرا بچہ اغوا ہوا اور انہوں نے بازیاب نہیں کروایا،آپ کی منڈی بہاولدین پولیس پر اسے اغوا کرنے کا الزام ہے،۔
اگر یہ بازیاب نہیں ہوتا تو کیا پولیس پر سوالیہ نشان نہیں آتا؟ تین ہفتوں کے اندر اس شخص کو کہیں سے بھی بازیاب کروایا جائے، اگر مغوی بازیاب نہیں ہوتا تو آئی جی خود عدالت میں آ کر وجہ بتائیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آج خود کیوں نہیں آئے؟ جس پر ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ بھکر میں رات حملہ ہوا ہے وہ وہاں گئے ہوئے ہیں عدالت نے مغوی کو تین ہفتوں میں بازیاب کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔