ثنا یوسف قتل کیس، وکیل کی عدم موجودگی میں گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے خلاف درخواست خارج

ثنا یوسف قتل کیس، وکیل کی عدم موجودگی میں گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے خلاف درخواست خارج

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف ملزم عمر حیات کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا فیصلہ میں بتایا گیا ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں کوئی قانونی سقم، بے قاعدگی یا دائرہ اختیار کی غلطی نہیں پائی گئی، ملزم ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھا جو قانونی طور پر درست حاضری تصور ہوتی ہے جس کے باعث عدالتی آرڈر شیٹس کو درست اور مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔

فیصلہ میں مزید بتایا گیا ٹرائل کورٹ پر مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی قانونی ذمہ داری ہے، آرٹیکل 10 اے کے تحت جلد ٹرائل کا حق انصاف کے وسیع تر عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے جبکہ وکیل کی ذمہ داری ہے وہ ذاتی سہولت کے بجائے مقدمے کی پیش رفت کے لیے عدالت میں دستیاب رہے ۔

محض خدشات کی بنیاد پر کسی عدالتی افسر کے طرزِ عمل پر الزامات عائد کرنا درست نہیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے مزید تاخیر کی صورت میں ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل فراہم کیا جائے،وکیل مستقبل میں ٹرائل کورٹ کے خلاف غیر مصدقہ الزامات لگانے سے گریز کریں۔

واضع رہے درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ ملزم اور وکیل کی عدم موجودگی میں گواہ کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے اس لیے گواہان کے بیانات خارج کر کے دوبارہ قلمبند کیے جائیں۔