خضدار میں بچیوں کی درس و تدریس کے ساتھ ہنرمندی کی تربیت

خضدار میں بچیوں کی درس و تدریس کے ساتھ ہنرمندی کی تربیت

سکول آف سکالرز نامی اس نجی تعلیمی ادارے میں صرف لڑکیاں پڑھتی ہیں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی پر مشتمل تعلیم بلوچستان کی لڑکیاں اس سکول میں انتہائی مختصر فیس یا مفت میں حاصل کر رہی ہیں۔

اس سکول میں تین سوکے قریب بچیاں زیر تعلیم ہیں، ہر بچی ذہن سازی اور تربیت کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے جس کے بعد وہ اپنے لیے ایک پروجیکٹ منتخب کرکے اس پر اپنا آئیڈیا پیش کرتی ہے اور آئیڈیا منظور ہونے پر وہ بچی اس پر کاروبار شروع کرتی ہے۔

جماعت چہارم کی عظمیٰ اشرف نے بتایا کہ میں اچار کا کاروبار کرتی ہوں، میرا اپنا ایک برانڈ ہے، گھر پر اچار بنا کر پیک کرتی ہوں اور پھر آن لائن بیچتی ہوں، یہ جب میں نے شروع کیا تو یہ کامیابی میرے والدین کے لیے حیران کن تھی، میں اب کافی کماتی بھی ہوں۔

جماعت نہم کی بسما خان نے بتایا کہ ہمارا سکول دوسرے سکولوں سے اس لیے مختلف ہے کیوں کہ یہاں پڑھائی کے ساتھ سرگرمیوں کے ذریعے ہنر سیکھتی ہوں، میرا اپنا کاروبار ہے اور ساتھ میں سکول کے مختلف منصوبوں میں کام کرتی ہوں جس کا کریڈٹ سکول کی بانی ماں اور بیٹی کو جاتی ہے، اس سکول میں ہوتے ہوئے ایسا لگتا ہے کسی بیرونی ملک میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔

خضدار میں سینکڑوں لڑکیوں کو باصلاحیت بنانے والی ماں بیٹی ایک عام خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، سمیرہ محبوب اور ان کی 13 سالہ بیٹی علینہ بلوچ خضدار کی بچیوں کے خواب پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

سمیرہ محبوب ایک فیلوشپ کے ذریعے امریکہ پہنچی تھیں، جہاں سے تربیت لے کر انہوں نے اس سکول کو قائم کیا، ان کی بیٹی علینہ بلوچ جو اس سکول میں زیر تعلیم رہی ہیں، اب انٹرنیٹ سے مدد لے کر مختلف آئیڈیاز سوچتی ہیں اور اپنے سکول میں ان پر عمل درآمد کرواتی ہیں۔

علینہ بلوچ نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو ملالہ مگزین کے ٹائٹل پیج پر چھپی، وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو لے کر کئی کامیابی سمیٹ چکی ہے اور مزید طالبات کو تربیت فراہم کر رہی ہیں۔

ان کے ہاتھوں تربیت یافتہ زنیرہ بلوچ نے یونیسیف کی کم عمر چائلڈ ایڈووکیٹ منتخب ہو کر گزشتہ سال کوپ 29 میں پاکستانی کی نمائندگی کی تھی۔

علینہ بلوچ لڑکیوں کو آن لائن کاروبار، ماحولیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور سائنسی تعلیم پر زور دیتی ہے، اپنی والدہ کے ساتھ مل کر علینہ بلوچ اب تک 500 سے زائد لڑکیوں کو تربیت دے کر مالی مستحکم بنا چکی ہے، انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام She Build Her Own Legacy ہے۔

خضدار بلوچستان کے ان قبائلی علاقوں میں شامل ہے جہاں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے لیکن سمیرہ محبوب کی کوششوں نے لڑکیوں کے لیے کئی راہیں کھول دی ہیں۔