تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید567 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 67 ہزار 393 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 16 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 344 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 39 ہزار 200 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر1704 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.44 فیصدرہی،این سی اوسی

عوامی شخصیات کو ہراساں کرنا ہوا مشکل،فیس بک کے نئے قوانین کی تیاریاں

Published On 13 October,2021 10:35 pm

دبئی:(ویب ڈیسک)سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک اپنے صارفین کی سہولیات کے پیش نظر آئے روز اپنی پالیسی ،ضابطوں اور قوانین میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے اب فیس بک نے نئے قوانین کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے مطابق اب کوئی بھی صحافیوں،انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عوامی شخصیات کو ہراساں نہیں کرسکے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے صارفین کو مزید محفوظ تصور کرانے کے لئے مارک زکر برگ کی زیر ملکیتی کمپنی فیس بک نے نئے قوانین پر کام شروع کردیا ہے جس کے مطابق فیس بک اب ایکٹوسٹ اور صحافیوں کو عوامی شخصیات میں شمار کرے گا اور اس طرح ان شخصیات کو نشانہ بنائے جانے اور ہراساں ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کرے گا۔

واضح رہے کہ فیس بک جس میں تقریباً 2اعشاریہ 8بلین ماہانہ فعال صارفین ہیں کو چیلنجز درپیش رہتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔

فیس بک کے گلوبل ہیڈ آف سیفٹی اینٹیگون ڈیوس نے کہا کہ کمپنی اب شدید اور ناپسندیدہ جنسی مواد ، توہین آمیز جنسی فوٹو شاپ شدہ تصاویر یا ڈرائنگ یا کسی شخص کی ظاہری شکل پر براہ راست منفی حملوں کی اجازت نہیں دے گا جس میں مثال کے طور پر کسی عوامی شخصیت کے پروفائل پر تبصرے شامل ہیں۔