تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی نظام کی تجاویززیرگردش ہیں،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- آئینی ڈھانچےکےخلاف سازش ہورہی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک میں کھاد کابحران ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک میں پہلی بارکھادکابحران پیداہوا،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- کسانوں کےمسائل کوہرفورم پراٹھائیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- لانگ مارچ میں کسان شرکت کریں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- بلوچستان کےمعدنی ذخائرپرمقامی لوگوں کاحق ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ریکوڈک معاہدہ عوام کےسامنےلایاجائے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- فاٹاکےانضمام کو 4سال ہوگئے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- سابق فاٹا کےعوام کوکوئی نظام نہیں دیا گیا،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- سابق فاٹاکےعوام پرناکام نظام مسلط کیاجارہاہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- سانحہ مری، چھوٹےسرکاری ملازمین کونکالنا ناکافی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- وزیراعظم اورعثمان بزدارکومستعفی ہوناچاہیے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- 23مارچ کوہم اسلام آباد میں داخل ہوں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پریڈصبح ہوتی ہےہم ظہرکے بعد آئیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- عدم اعتمادپرتمام جماعتیں متفق ہوں گی توفیصلہ کریں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- دھاندلی سےآنےوالی حکومت کوہٹاناآئینی فریضہ ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- خواہش ہےمہنگائی مارچ میں تمام جماعتیں شریک ہوں،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پارلیمانی نظام کاخاتمہ آئین کیخلاف سازش لگتی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پارلیمانی نظام کوختم نہیں ہونےدیں گے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- صدارتی طرزحکومت ایک سیاہ تاریخ رکھتاہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- پاکستان میں صدارتی طرزحکومت کسی صورت قبول نہیں،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- صدارتی نظام آمریت کا دوسرا نام ہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس ناپاک سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے،فضل الرحمان

ویڈیو گیمز کا نشہ بیماریوں اور سماجی تعلقات کی خرابی کا سبب

Published On 07 January,2022 03:40 pm

لندن: (ویب ڈیسک) ویڈیو گیمز کا نشہ بچوں اور بڑوں میں بیماریوں اور سماجی تعلقات میں خرابی کا بڑا سبب بن کر سامنے آیا ہے، برطانیہ میں والدین نے اس نشے سے چھٹکارے کیلئے مخصوص کلینک کا رخ کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق ویڈیو گیمز دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں خصوصا بچے اور ٹین ایجرز میں یہ شوق اس قدر شدت اختیار کرلیتا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود ویڈیو گیمز کی مصنوعی دنیا سے باہر نہیں آ سکتے، اس صورتحال میں یہ نشے جیسے نقصانات کا سبب بنتا ہے۔ برطانیہ کے 16 سالہ ایلکس کو ایسی ہی مشکل آن پڑی۔

ایلکس رات گئے تک ویڈیو گیمز کھیلتے کھیلتے ان میں ایسا محو ہو جاتا تھا کہ آہستہ آہستہ آٹزم جیسی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ والدین کیلئے یہ بہت بڑا جھٹکا تھا، انہوں نے ایلکس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ بجائے کہ ویڈیو گیمز سے دوری اختیار کرتا الٹا والدین سے ہی لڑائی جھگڑے شروع کر دیئے۔

والدین نے مارپیٹ کی بجائے مثبت طریقہ اختیار کرتے ہوئے نیشنل سینٹر فار گیمنگ ڈِس آرڈرز (کلینک) کا رخ کیا جہاں ماہرین نے سائنسی بنیادوں پر ایلکس کا علاج کرنا شروع کیا۔ والدین کہتے ہیں کہ علاج سے تو ایلکس کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا تاہم انہیں اسی طرح کے عارضے میں مبتلا دوسرے بچوں کےوالدین سے بات کرنے کا موقع ملا۔ والد سٹیو نے بتایا کہ سب سے بڑی سہولت یہ احساس تھا کہ آپ اس مسئلے کا اکیلے شکار نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ ویڈیو گیمز سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں جن سے شفا پانا بھی ممکن ہے۔

نیشنل سینٹر فار گیمنگ ڈِس آرڈرز میں کام کرنیوالے معالجین کے مطابق ویڈیو گیمز کے نشے مبتلا زیادہ تر ٹین ایجرز (13 سے 19 سال کے بچے) ہوتے ہیں، بعض بچوں نے ویڈیو گیمز کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر خودکشی تک کی دھمکی دی۔

عالمی ادارہ صحت نے گیمنگ ڈِس آرڈر کی 3 خصوصیات بیان کی ہیں جن میں گیم کھیلنے ہوئے کنٹرول میں نہ رہنا، دوسرے مشاغل پر ویڈیو گیمز کو ترجیح دینا اور منفی نتائج کے باوجود گیمز میں مشغول رہنا شامل ہیں۔

گیمنگ ڈِس آرڈر میں مبتلا لوگ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے، انہیں غصہ آتا ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے، نیند اڑ جانا بھی عوارض میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق 60 سال تک کے افراد ان کے پاس علاج کیلئے لائے گئے ہیں۔

ایک مریض مائیک نے بتایا کہ انہیں اپنی عمر کی تیسری دہائی میں ویڈیو گیمز کی عادت پڑی، یہاں تک کہ ان کے اپنے گھر والوں سے تعلقات خراب ہو گئے۔ انہوں نے پھر مخصوص بحالی مرکز میں 8 ہفتے علاج کروایا جس کے سبب ان کے اپنی بیوی سے تعلقات میں بہتری آئی۔