پیرس: (ویب ڈیسک)فرانس کے ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی کے چوتھے سیارے مریخ میں بجلی کڑکنے کو ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
2021 میں مریخ کی سطح پر اترنے والے ناسا کے پرزرویرنس روور کو سیارے پر حیاتیاتی علامات کی جانچ کے لیے بھیجا گیا تھا اور وہ گزشتہ چار برس سے جیزیرو کریٹر کے علاقے کا معائنہ کر رہا ہے۔
مریخ پر بجلی کڑکنے کا مظہر روور پر نصب سپر کیم آلے سے ہونے والی آڈیو اور الیکٹرومیگنیٹک ریکارڈنگ سے سامنے آیا، سائنس دان پُر امید ہیں کہ ان نتائج کی تصدیق کی غرض سے ایٹماسفیئرک ڈسچارج کی پیمائش کے لیے نئے آلات اور مزید حساس کیمرا بھیجے جا سکتے ہیں۔
فرانس سے تعلق رکھنے والی محققین کی ٹیم نے 28 گھنٹوں کی مائیکروفون ریکارڈنگز کا جائزہ لیا جو ناسا کے روور نے دو مریخی سال (یا 1374 زمینی دن) سے زیادہ کے عرصے میں حاصل کی گئی تھیں۔
ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ الیکٹریکل ڈسچارجز کا آندھی اور مٹی کے طوفانوں سے معمول کا تعلق ہے۔



