تازہ ترین
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کا 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان
  • بریکنگ :- 25 مئی کو 3 بجےسری نگرہائی وے پرملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرمکتبہ فکرکےلوگ لانگ مارچ میں شرکت کریں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلیوں کی تحلیل اورشفاف الیکشن کی تاریخ چاہیے،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی تحلیل اورالیکشن کی تاریخ ملنےتک اسلام آباد رہیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- بیوروکریسی نےغیرقانونی کارروائی کی توایکشن لیں گے ،عمران خان
  • بریکنگ :- فوج کوکہتاہوں آپ نیوٹرل ہیں،نیوٹرل ہی رہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجیل سےنہیں ڈرنا،جان کی قربانی دینی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- باربارکہا جاتاہے جان کو خطرہ ہے،کوئی خطرہ نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم جان کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم چوروں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- خوف ہےیہ لوگ پٹرول ،ڈیزل ،انٹرنیٹ بندکردیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انٹرنیٹ،پٹرول ،ٹرانسپورٹ بندہو گی،پہلےسےتیاری رکھیں،عمران خان

لڑائی نہیں چاہتے، جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دینگے: ٹرمپ

Last Updated On 11 September,2019 09:57 pm

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم لڑائی نہیں چاہتے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں نائن الیون کی 18 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 4 روز کے دوران ہماری افواج نے اس قدر شدت کے ساتھ دشمنوں کو نشانہ بنایا ہے جسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ گزشتہ ہفتے طالبان حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد سے طالبان سے مذاکرات منسوخ کیے اور ان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لڑائی نہیں چاہتے اور جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا۔ ان کا اشارہ عراقی جزیرے قانوس کے بارے میں تھا جہاں داعش کے ٹھکانوں پر لگ بھگ 36 ہزار کلوگرام وزنی بم برسائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ 18 سال پہلے چار مسافر ہوائی جہازوں کو اغواء کر لیا گیا تھا جنہیں بعد میں نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 3000 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس واقعہ میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن اور تنظیم القاعدہ پر شامل ہے، بعد ازاں خود اسامہ نے بھی ان کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا۔ 7 اکتوبر 2001ء کو صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی اور برطانوی افواج کی مدد سے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔