تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:جوہرآبادمیں حجام کی دکان پرڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ
  • بریکنگ :- کراچی:ایک شخص جاں بحق،پولیس اہلکارسمیت 2افرادزخمی
  • بریکنگ :- کراچی:مقتول کی شناخت محمدسلمان کےنام سےکرلی گئی،پولیس
  • بریکنگ :- زخمی اہلکارسعداورشمس کوعباسی شہیداسپتال منتقل کردیاگیا،پولیس
  • بریکنگ :- ڈکیتی کےبعدڈاکوفرارہونےلگےتوسادہ لباس میں موجوداہلکارنےفائرنگ کی
  • بریکنگ :- واٹرپلانٹ کےقریب کھڑاشخص سینےپرگولی لگنےسےجاں بحق ہوگیا
  • بریکنگ :- زخمی اہلکارسعدرؤف خواجہ اجمیرنگری تھانےمیں تعینات ہے،پولیس

روس اور ترکی کا شمالی شام کے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے پر اتفاق

Last Updated On 23 October,2019 06:16 pm

انقرہ: (ویب ڈیسک) شمالی شام میں ترکی کے آپریشن کے بعد کی صورتحال کے بعد روس متحرک ہوا جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، انقرہ اور ماسکو شام کے شمالی حصے کا کنٹرول سنبھالنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی شام کے معاملے پر ترکی اور روس میں اتفاق ہو گیا ہے کہ مشترکہ طور پر ترک سرحد کے قریب شمالی شام کے کچھ حصے کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ کُرد فورسز جنگ بندی معاہدے کے تحت اس علاقے سے نکل رہی ہیں۔

روسی کے سیاحتی مقام سوچی میں ترک صدر رجیب طیب اردوان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات ہوئی، یہ ملاقات غیر معمولی رہی اور چھ گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے شام کے شمالی حصے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کے حوالے سے اس معاہدے کا اعلان کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے کے تحت علاقے میں سیز فائر میں م‍زید ایک دن کی توسیع پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ترک سرحد کے قریبی علاقوں سے کُرد ملیشیا کے جنگجو نکل سکیں۔ یہ مہلت منگل 22 اکتوبر کی شب ہی ختم ہو رہی تھی تاہم اس سے چند گھنٹے قبل ہی اس میں توسیع پر اتفاق ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا کی کوششوں سے ترکی اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جسکے تحت کرد ملیشیا کو شمالی شام کے علاقوں سے نکلنے کے لیے 120 گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی جہاں ترکی محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو لا کر بسایا جائے۔ ترکی وائی پی جی کو کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد گروپ سمجھتا ہے اور وہ اپنی سرحد کے قریب اس گروپ کو طاقت پکڑتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد اردوان نے معاہدے کو  تاریخی‘ قرار دیا جسکے سبب شام میں قیام امن کے لیے  ایک نئے دور کا آغاز‘ ہو گا۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ترکی اور شام کی سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔ ایک کرد اہلکار نے اے ایف پی کا بتایا کہ منگل کی ڈیڈلائن سے پہلے ہی کرد ملیشیا کے جنگجو سرحدی علاقوں سے نکل گئے تھے۔

معاہدے میں سیز فائر میں توسیع کا وقت 23 اکتوبر کی دوپہر سے شروع کرنے پر اتفاق ہوا جب روسی ملٹری پولیس اور شام سرحدی گارڈز اس علاقے میں داخل ہو جائیں گے اور وائی پی جی سے منسلک عناصر کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کریں گے۔

ترک اور روسی فورسز مشترکہ طور پر اس علاقے میں گشت شروع کردیں گی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق 23 اکتوبر کی دوپہر کے بعد سے 150 گھنٹوں کے اندر وائی پی جی کے دہشتگرد اور انکے ہتھیاروں کو 32 کلومیٹر کے فاصلے سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس گروپ کے محفوظ پناہ گاہوں اور پوزیشنوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔