تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
  • بریکنگ :- منی بجٹ تیارہوچکاہے، حکومت کہےگی توپیش کردیں گے،چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جارہی ہے ، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی سفارش ہے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقراررہےگی، چیئرمین ایف بی آر

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے یو این سیکرٹری جنرل کی یکجہتی کا مظاہرہ کرنیکی اپیل

Last Updated On 10 April,2020 05:49 pm

نیو یارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اُدھر اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے تعلق سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لے لیا۔

اقوام متحدہ کے بند کمرہ اجلاس سے خطاب میں سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کاکہناتھاکہ سلامتی کونسل کو اقوام عالم کو کورونا سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں پوری دنیا کو اتحاد اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا کورونا وائرس کے خلاف ایک نسل کی لڑائی کا سامنا ہے۔۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے تعلق سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اور میڈیا کا حلقہ کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے میں لگا ہے جس کے سبب مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت میں عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے اقوام متحدہ کی بھارتی مندوب رینتا لوک ڈیزلن نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کووڈ- انیس کے تعلق سے، ایک خاص برادری کے لوگوں کو بدنام کرنے کے خلاف لڑنے اور مہاجر مزدوروں کے مسائل سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے بھی بھارت میں کورونا وائرس کے تعلق سے مسلم فرقہ کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت نکتہ چینی کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی بھارت میں کورونا کو ایک خاص مذہب سے جوڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی چیزوں کو آخر بھارت میں ہی پنپنے کا موقع کیوں ملتا ہے؟ ادارے کے پروگرام ڈائریکٹر مائک رائن کا کہنا تھا کہ ممالک کو چاہیے کہ وہ نئے کورونا وائرس کے مریضوں کے کیسز کی مذہب یا پھر کسی دوسری بنیادوں پر پروفائلنگ سے گریز کریں۔