تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان میں اچھی گورننس کی ضرورت ہے، مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- بری گورننس سکیورٹی رسک پیداکررہی ہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- شہرقائدمیں روزانہ اربوں روپےکاپانی چوری ہوتاہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- شہرقائدمیں غریب اورامیردونوں پانی خریدکراستعمال کررہےہیں،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- مہنگائی میں ہوشربااضافہ ہوگیاہے،چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- اوگراایک روپیہ 35 پیسےپٹرول کی قیمت بڑھانےکی سفارش کرتاہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- وزیراعظم صاحب پٹرول کی قیمت میں 5 روپےاضافہ کردیتےہیں،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- سندھ میں 29ہزارروپےمیں اسکول کاایک ڈیسک تیارکیاگیا،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- 10اکتوبرکولیاقت آباد میں احتجاجی جلسہ ہوگا،مصطفیٰ کمال

پاکستان، روس، چین، ایران کو افغان تنازع کے حل کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا: بلنکن

Published On 08 March,2021 08:00 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ پاکستان، روس، چین، ایران کو افغان تنازع کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے افغان صدر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ امریکا یکم مئی کو افغانستان سے تمام افواج کے انخلا پر غور کر رہا ہے جب کہ دیگر آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔

خط میں صدر غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم آپ پر واضح کر دینا چاہتے ہیں واشنگٹن میں ہماری پالیسی پر غور ہو رہا ہے اور امریکا کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کر سکتا۔ ہم یکم مئی کو امریکی فوج کے مکمل انخلا کے علاوہ دیگر آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی صورتِ حال اور طالبان کے مزید علاقوں پر قبضے کے خدشے کے پیشِ نظر بلنکن نے اشرف غنی سے کہا کہ میں آپ پر اسی لیے واضح کر رہا ہوں شاید آپ کو میرے لہجے سے اندازہ ہو کہ ہمیں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ امریکا اقوامِ متحدہ سے کہہ سکتا ہے کہ وہ روس، چین، پاکستان، ایران کے وزرائے خارجہ اور سفارت کاروں پر مشتمل ایک کانفرنس بلائے جو افغان امن عمل کے لیے متفقہ حکمتِ عملی اپنانے پر تبادلۂ خیال کریں۔ یہی وہ ممالک ہیں جنہیں افغان تنازع کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ ترکی سے بھی کہیں گے کہ آئندہ چند ہفتوں میں وہ طالبان اور افغان اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کانفرنس کی میزبانی کرے جس میں امن معاہدے کو حتمی شکل دی جائے اور میں صدر غںی سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی اپنا وفد یہاں بھیجیں۔ وہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ایک تجویز پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ طالبان کو موسمِ بہار میں حملوں سے روکا جا سکے۔

انہوں نے صدر غنی سے کہا کہ وہ سیاسی مخالفین اور دیگر فریقین کے ساتھ مل کر ایک متحدہ محاذ تشکیل دیں جو جامع ہو اور اس پر افغان عوام کا اعتماد بھی ہو۔ افغان دھڑوں کے مابین عدم اتفاق نے 90 کی دہائی میں ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

خط میں زلمے خلیل زاد کی تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے صدر غنی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان پر غور کریں تاکہ افغان امن عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

افغان میڈیا ’طلوع نیوز‘ کے مطابق افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے خط کے بعد امن سے متعلق ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے آئین اور عوام کے ووٹ سے متعلق حقوق پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔