تازہ ترین
  • Weather :- سوات اورگردونواح میں زلزلےکےجھٹکے
  • Weather :- زلزلےکی شدت 4.8 ریکارڈکی گئی،زلزلہ پیمامرکز
  • Weather :- زلزلےکی گہرائی 178کلومیٹر،مرکزافغانستان تاجکستان بارڈرریجن تھا
  • Weather :- 24گھنٹےکےدوران بیشترعلاقوں میں موسم گرم رہےگا،محکمہ موسمیات

’مودی بھارت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے‘: آسٹریلوی اخبار میں مضمون

Published On 27 April,2021 04:56 pm

کینبرا: (ویب ڈیسک) آسٹریلیا کے معروف روزنامے 'دی آسٹریلین' نے بھارت میں کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے مضمون (مودی بھارت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے) شائع کیا ہے جس پر بھارتی حکام سیخ پا ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مضمون کو  دی آسٹریلین  نے ’مودی بھارت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے‘ کی تبدیل شدہ سرخی کے ساتھ اپنے اخبار میں دوبارہ شائع کیا تھا اور اسی پر بھارت کو شدید اعتراض ہے۔ یہ مضمون آن لائن بھی دستیاب ہے جس میں بھارت میں کورونا کے موجودہ بحران پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور دلائل کے ساتھ بتانے کی کوشش کی گئی کہ کس طرح مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے وجہ سے اس طرح کا شدید بحران پیدا ہو گيا۔

اس کے مطابق ایک ایسے وقت جب بھارت میں کورونا وائرس کے انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا تو خود وزیر اعظم مودی اور ان کے سینیئر وزراء ایسی بڑی انتخابی ریلیاں کرنے میں مصروف تھے جس میں بغیر کسی ضابطے کے لاکھوں لوگ شرک ہوتے رہے۔

ماہرین نے بار ہا تنبیہ کی اس کے باوجود ہندوؤں کے مذہبی تہوار کمبھ جیسے میلے کی اجازت دی گئی جس میں لاکھوں لوگ ایک ساتھ جمع ہوتے رہے اور اس سب کے درمیان حکومت نے آکسیجن کی کمی اور ہسپتالوں کی صورت حال پر قطعی توجہ نہیں دی۔

اخبار نے لکھا کہ خود پرستی کا نشہ، قوم پرست سیاست، صحت کا بد ترین نظام، ویکسین کا سست رو عمل اور قابو پانے کے لیے بندشوں کے بجائے معیشت کو فروغ دینے کے خمار جیسی پالیسیوں نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔

مضمون کا ٹیزر کچھ یوں ہے، متکبر، انتہائی درجے کی قوم پرستی اور بیوروکریٹک نااہلی نے مل کر بھارت میں اتنی بڑی سطح کا بحران پیدا کیا ہے، جس میں ہجوم سے پیار کرنے والا وزیر اعظم شیخی بگھار رہا ہے جبکہ عام شہریوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ یہ کہانی اسی پر ہے کہ آخر یہ سب اتنے خوفناک طریقے سے غلط کیسے ہوا۔

آسٹریلیا میں بھارتی سفیر نے روزنامہ  دی آسٹریلین  کی اس رپورٹ کو بے بنیاد، بہتان آمیز اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔