تازہ ترین
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورایسٹ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر

قطر کا فلسطین کے عوام اور جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

Published On 24 May,2021 06:45 pm

دوحہ: (ویب ڈیسک) قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی موجودہ صورتحال اور محصور غزہ کی تعمیرِ نو پر بات چیت کی۔

امیرِ قطر کے صداراتی محل امیری دیوان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسماعیل ہانیہ نے فلسطین کی آزادی اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لئے قطر کی سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

امیرِ قطر نے برادر ملک فلسطین کے عوام اور ان کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسماعیل ہنیہ نے اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہونے والے نقصانات، شہری انفرااسٹرکچر اور رہائشی گھروں کی تعمیر نو کے لئے قطر سے امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

امیرِ قطر نے کہا کہ غزہ کے عوام کی مالی مدد جاری رکھی جائے گی تاکہ ان کے معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

واضح رہے کہ رمضان کی 27 ویں شب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا جس کے بعد دونوں طرف سے حملوں میں تیزی آئی۔ یہ جنگ 11 روز جاری رہی جس میں اسرائیلی میزائل اور بم حملوں سے 250 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور غزہ کی بیشتر رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

فلسطینیوں میں اشتعال اس وقت پیدا ہوا جب اسرائیل کی ایک عدالت نے مشرقی یروشلم کی فسلطینی آبادی کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ دیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔