تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس،ملکی صورتحال کا جائزہ
  • بریکنگ :- لاہور:اجلاس میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شریک
  • بریکنگ :- موجودہ صورتحال پرتفصیلی بریفنگ اورمعاملات کوبہتر بنانےپرغور
  • بریکنگ :- حکومتی مذاکراتی کمیٹی کالعدم جماعت کے رہنماؤں سےمذاکرات کرے گی

ملا ہیبت اللہ افغانستان کے سربراہ ہونگے، وزیراعظم یا صدر ماتحت ہوگا، طالبان

Published On 01 September,2021 10:11 pm

کابل: (ویب ڈیسک)افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئے نظام میں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ سربراہ ہوں گے، وزیراعظم یا صدر ان کے ماتحت ہوں گے۔

امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد اب طالبان نے حکومت سازی کے لیے مشاورت تقریباً مکمل کرلی ہے اور کسی بھی وقت ان کی جانب سے حکومت کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

افغان میڈیا طلوع نیوز نے طالبان رہنما کے حوالے سے خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ نئی حکومت کے قیام سے متعلق طالبان کی اعلیٰ قیادت کی مشاورت مکمل ہوگئی ہے اور جلد اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے افغان میڈیا طلوع نیوز کو بتایا کہ ہمارے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نئی حکومت کے بھی سربراہ ہوں گے، نئی حکومت سے متعلق مشاورت مکمل ہوگئی ہے، کابینہ کے ارکان سے متعلق بھی ضروری بات چیت کی جاچکی ہے۔ ہم جس اسلامی حکومت کا اعلان کریں گے وہ لوگوں کیلئے ایک ماڈل ہوگی، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ حکومت کا حصہ ہوں گے، وہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے اس میں کوئی دو رائے نہیں۔‘

طلوع نیوز نے غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ طالبان کی نئی حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ بھی موجود ہوگا جو ہیبت اللہ کے ماتحت کام کرے گا۔

یاد رہے کہ 15اگست 2021 کو طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے جس کے بعد صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے اور افغان حکومت غیر فعال ہوگئی۔

طالبان نے پنجشیر کے سوا ملک بھر میں اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے جس کے بعد سے دنیا کو طالبان کی نئی حکومت کے اعلان کا انتظار ہے تاہم طالبان نے واضح کردیا تھا کہ جب تک امریکا اپنا انخلا مکمل نہیں کرتا نہ ہی حکومت کا اعلان کیا جائے گا نہ کابینہ کا۔

طالبان کے ایک اور رکن عبدالحنان حقانی نے بتایا کہ ہر صوبے میں امارت اسلامی فعال ہے، ہر صوبے میں گورنر موجود ہیں جنہوں نے کام بھی شروع کردیا ہے، ہر ضلعے میں ضلعی گورنر بھی موجود ہیں، پولیس چیفس بھی تعینات ہیں جو لوگوں کے لیے خدمات فراہم کررہے ہیں۔

افغانستان میں نئی حکومت کا 3 روز میں اعلان کر دیا جائے گا، طالبان

فغانستان میں حکومت سازی کیلئے مشاورتی عمل مکمل کر لیا گیا، طالبان رہنماوں کا کہنا ہے تین روز میں حکومت کا اعلان کر دیا جائے گا۔ نئی حکومت میں خواتین بھی شامل ہوں گی، پنج شیر میں مزاحمتی اتحاد نے وادی کے داخلی راستے پر طالبان کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان نے کہا ہے وادی پر سرے سے حملہ ہی نہیں کیا گیا۔

اٖفغانستان میں نئی حکومت کب بنے گی سب کو انتظار ہے۔ دوحہ سیاسی دفتر کے نائب رکن شیر محمد عباس ستانکزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کا اعلان تین دن میں کر دیا جائے گا۔ نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس کی حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے، نئی حکومت میں متقی ، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے،

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی، یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گی یا نہیں۔ شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو دو دن میں بحال کر دیا جائے گا۔ ائیر پورٹ کی بحالی پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہوگا، بحالی کی رقم قطر اور ترکی کی جانب سے مدد کے طور پر دی جائے گی۔

طالبان رہنما نے مزید کہا کہ قانونی دستاویزات کے حامل افراد ملک سے باہر جا سکیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا بغیر دستاویزات والے 25 سو افغانوں کو واپس بھیج رہا ہے۔

افغانستان میں مہم کے دوران امریکا کچھ بھی حاصل نہ کر سکا: پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ مہم المیے اور نقصانات پر اختتام پذیر ہوئی۔ مہم کے دوران امریکا کچھ بھی حاصل نہ کر سکا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی روسی صدر مغربی ممالک پر تنقید کر چکے ہیں کہ وہ غیر مغربی ممالک پر اپنی اقدار مسلط کرتے ہیں۔ وہ امریکا کی افغانستان میں پالیسی کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نوجوانوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20 سالوں میں امریکی فوج نے اپنی اقدار جنگ زدہ ملک پر لاگو کرنے کی کوشش کی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 20 سالہ جنگ کا نتیجہ افغانستان میں رہنے والوں اور امریکا کے لیے صرف المیوں اور نقصانات کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ باہر سے کچھ بھی مسلط کرنا ناممکن ہے۔

امریکہ آج کے بعد دوسرے ممالک میں فوج بھیج کر قوم سازی نہیں کرے گا: جوبائیڈن
صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کو بہترین قرار دے دیا، قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکا کی تیسری نسل کو مزید جنگ میں نہیں جھونک سکتے، القاعدہ کا قلع قمع کردیا، داعش پر حملے جاری رکھیں گے، آج کے بعد امریکہ دوسرے ممالک میں فوج بھیج کر وہاں قوم سازی نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی انخلا کا فیصلہ میرا ہی فیصلہ ہے، افغانستان میں جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں تھی، اسے بہت عرصہ قبل بند ہو جانا چاہیے تھا، 2 دہائیوں تک 300 ملین ڈالریومیہ جھونکے، اب مزید نہیں جھونک سکتے، امریکا کی تیسری نسل کو جنگ میں نہیں دھکیل سکتے، افغانستان میں جس طرح ہم قوم سازی اور جمہوریت لانا چاہتے تھے، ایسا وہاں صدیوں میں نہیں ہوا۔ صدر بائیڈن نے قوم سے خطاب میں ماضی کی غلط امریکی پالیسیوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ دنیا تبدیل ہورہی ہے ہم چین کےساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، روس اور چین تو چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا کواندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرار ہو جائے گا، افغانستان میں عدم استحکام نہیں چاہتے، طالبان کےالفاظ پریقین نہیں کریں گے، ان کاعمل دیکھیں گے، کابل میں ایئرپورٹ حملےمیں ملوث داعش کو نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا کہ انھوں نے طالبان سے انخلا کے بارے میں ناکافی مذاکرات کیے۔

کابل ائیرپورٹ دھماکے سے قبل افغان شہریوں کو نشانہ بننے والے گیٹ پر جانے کو کہا گیا، برطانوی میڈیا

رطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایسی ای میلز سامنے آئی ہیں جن کے مطابق برطانوی حکام نے کابل ائیرپورٹ کے باہر خود کش حملے سے پہلے افغان شہریوں کو نشانہ بننے والے ائیرپورٹ گیٹ پر جانے کو کہا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں ایسی ای میلز سامنے آئی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اور امریکا کو ایئرپورٹ پر خطرے کے بارے میں معلوم تھا اس کے باوجود برطانوی سفارتخانے نے لوگوں کو ایئرپورٹ کے ابے گیٹ پر جمع ہونے کے لیے کہا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان ای میلز پر تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ ای میلز برطانوی سفارت خانے نے بھیجی تھیں۔

افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا: چین

دوسری طرف چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ افغان عوام نے قومی امن اور تعمیر نو کیلئے ایک نئی شروعات کی ہے اور افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اُ مید ہے کہ افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگی جو جامع، قابل رسائی اور وسیع نمائندگی کی حامل ہوگی اور افغانستان ہر قسم کی دہشت گرد قوتوں کے خلاف سختی سے کریک ڈاؤن کرے گا۔